علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر تعلیمی نظام کی ازسرنو تشکیل ناگزیر ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں اور چیلنجز کے لیے تیار کیا جاسکے
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر تعلیمی نظام کی ازسرنو تشکیل ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر تعلیمی نظام کی ازسرنو تشکیل ناگزیر ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں اور چیلنجز کے لیے تیار کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیکلٹی آف ایجوکیشن کے زیر اہتمام ”ریسرچ اینڈ پریکٹسز ان ایجوکیشن“ کے موضوع پر منعقدہ نویں بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی نے علم اور معلومات تک رسائی کو غیر معمولی حد تک آسان بنا دیا ہے تاہم معلومات کی دستیابی اور اس کی صداقت دو مختلف امور ہیں، اس لیے اساتذہ، طلبہ اور محققین اے آئی سے ضرور استفادہ کریں لیکن اس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کی درستگی، حوالہ اور صداقت کی تصدیق کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے نصابات اور تعلیمی پروگرام تشکیل دینے ہوں گے جو صرف آج کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے آئندہ 15 سے 20 سال کی علمی، سماجی، معاشی اور ٹیکنالوجیکل ضروریات کو سامنے رکھ کر تیار کیے جائیں۔ ڈاکٹر ناصر کا کہنا تھا کہ مستقبل کی تعلیم صرف یہ نہیں سکھائے گی کہ کیا جاننا ہے بلکہ یہ بھی سکھائے گی کہ کیسے سوچنا، سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور پیچیدہ مسائل کے حل تلاش کرنا ہیں۔وائس چانسلر نے کہا کہ تعلیم محض صنعت یا پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بنیادی قومی ذمہ داری ہے جبکہ مصنوعی ذہانت استاد کا نعم البدل نہیں بلکہ ایک معاون ٹیکنالوجی ہے تاہم ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ استاد کے کردار اور تدریسی طریقہ کار میں بھی بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔مستقبل کا استاد محض معلومات فراہم کرنے والا نہیں بلکہ رہنما، سہولت کار، محقق اور طلبہ میں سوچ پیدا کرنے والا ہونا چاہیے جبکہ اے آئی استاد کی جگہ لینے کے بجائے اس کی تدریسی صلاحیتوں کو مزید موثر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لرننگ اب صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک مکمل ”لرننگ ایکو سسٹم“ بن چکی ہے اور لائف لانگ لرننگ موجودہ دور کی بنیادی ضرورت ہے۔ جامعات کو ایسے تعلیمی مواقع فراہم کرنے ہوں گے جہاں افراد زندگی بھر سیکھ سکیں، اپنی صلاحیتیں نکھار سکیں اور بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہ سکیں۔ کانفرنس کا اس سال کا موضوع ”بدلتا ہوا تعلیمی ماحولیاتی نظام: باہمی ربط، تدریس اور ترقی“ تھا۔دو روزہ کانفرنس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم نے پینل مباحثوں، متوازی نشستوں اور دیگر علمی سیشنز میں شرکت کی۔ ماہرین نے جدید تدریسی طریقوں، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیمی معیار بہتر بنانے پر زور دیا۔ سیشنز میں تعلیم کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ موثر حکمت عملیوں پر اہم تجاویز پیش کی گئیں۔ سیکرٹری ڈاکٹر حنا نور اور کانفرنس کوآرڈینیٹرپروفیسر ڈاکٹر نوید سلطانہ نے کانفرنس رپورٹ پیش کی اور کانفرنس کے شرکا، منتظمین اور وائس چانسلرکا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے ایک کامیاب کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی۔








