امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے طویل مذاکرات کیے جو تعمیری اور امید افزا ہونے کی توقع ہے،ثالث دن بھر دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ کرتے رہے۔العربیہ اردو کے مطابقامریکی ایلچی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مذاکرات کے ایک دور کی کامیاب تکمیل کا اعلان کیا۔
ایرانی وفد کے ساتھ طویل مذاکرات تعمیری اور امید افزا ہونے کی توقع ہے،امریکی ایلچی

مزید خبریں
نیویارک۔24ستمبر (اے پی پی):امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے طویل مذاکرات کیے جو تعمیری اور امید افزا ہونے کی توقع ہے،ثالث دن بھر دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ کرتے رہے۔العربیہ اردو کے مطابقامریکی ایلچی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مذاکرات کے ایک دور کی کامیاب تکمیل کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات تعمیری اور امید افزا ثابت ہوں گے جبکہ ثالث بھی اپنا کام جاری رکھیں گے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ تہران نے نیویارک میں قطری ثالث کے ذریعے امریکا سے رابطہ کیا اور اپنی شرائط پیش کیں جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور ان اقدامات کو روکنا شامل ہے جنہیں ایران ’’امریکی جارحانہ کارروائیاں‘‘ قرار دیتا ہے۔ایرانی ترجمان نے بتایا کہ ایرانی شرائط میں بحری ناکہ بندی اور اقتصادی جنگ کا خاتمہ اور ایرانی اثاثوں کو ریلیز کرنا بھی شامل ہے۔
اس سے قبل نیویارک میں ایرانی اور امریکی وفود کے اجلاس میں شریک ایک امریکی ذریعہ نے بتایا تھا کہ فریقین کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے امکانات محدود ہیں۔ذرائع نے تصدیق کی کہ فریقین کے درمیان بڑے اختلافات اور رکاوٹیں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی فریق نے ایران کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ۔اس سے قبل ایک اعلیٰ سطح کے ذرائع نے بتایا تھا کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی وفود کے اجلاس نے مذاکرات میں موجود تعطل کو ختم کرنے میں پیش رفت کی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پیش رفت ممکن ہے تاہم اس کے لیے متعدد اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشاورت آبنائے ہرمز کھولنے اور پابندیوں و ناکہ بندی میں کمی لانے پر ہو رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کرنے والے ایرانی وفد نے تصدیق کی کہ اسے مذاکرات کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان "انتہائی نتیجہ خیز” مذاکرات ہوئے۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ہی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ٹرمپ نے بتایا کہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور اسےبہت اچھی اور انتہائی نتیجہ خیزقرار دیا۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بہت جلد مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بھی تہران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا اعلان کیا۔ امریکی خصوصی ایلچی جو امریکی صدر کے ساتھ تھے، نے کہا کہ وہ ان مذاکرات کے حوالے سے بہت زیادہ پرامید ہیں۔صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی وہاں موجود تھے جو جون میں مذاکرات معطل ہونے سے قبل تہران کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی شریک رہے تھے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا وہ ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں، وہ ہم سے بات کر رہے تھے اور آج بھی ہم سے بات کر رہے ہیں، تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ہم انہیں جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں تاہم صدرٹرمپ نے مذاکرات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔








