مصنوعی ذہانت میں پیشرفت کی کوششیں اجارہ داری یا رسائی میں رکاوٹ کا باعث نہیں بننی چاہئیں،نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصنوعی ذہانت کے ڈیزائن، ترقی اور انضمام کے تمام مراحل میں انسانی صوابدید اور کنٹرول برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شعبے میں پیش رفت کی کوششیں نئی قسم کی اجارہ داری یا رسائی میں رکاوٹ کا باعث نہیں بننی چاہئیں۔

نیویارک۔24ستمبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصنوعی ذہانت کے ڈیزائن، ترقی اور انضمام کے تمام مراحل میں انسانی صوابدید اور کنٹرول برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شعبے میں پیش رفت کی کوششیں نئی قسم کی اجارہ داری یا رسائی میں رکاوٹ کا باعث نہیں بننی چاہئیں۔جمعرات کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ’’مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بریفنگ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کیا۔

یہ اجلاس فرانس کی جانب سے ستمبر کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے تحت منعقد کیا گیا۔اجلاس کی صدارت فرانس کے وزیر خارجہ نے کی جبکہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی جن میں برطانیہ ،ڈنمارک اور جمہوریہ کانگو کے وزرائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور، اور امریکا کے صدر کے معاون اور وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر شامل تھے۔ پانامہ، یونان، صومالیہ، بحرین، لٹویا، کولمبیا، چین، روسی فیڈریشن اور لائبیریا کے سینئر نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔کونسل کو اقوام متحدہ کے مصنوعی ذہانت سے متعلق بین الاقوامی آزاد پینل کے شریک چیئرمین پروفیسر یوشوا بینجیو، اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹ مین، اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو اموڈی اور ہیگنگ فیس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کلیمنٹ ڈیلانگ نے بریفنگ دی۔

نائب وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے ڈیزائن، ترقی اور انضمام کے تمام مراحل میں انسانی صوابدید اور کنٹرول برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کو اسلحے کی دوڑ کا ایک اور پہلو بننے سے روکنے اور فوجی شعبے میں غلط اندازوں اور فیصلے کرنے کے لیے محدود ہوتے وقت سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے تحمل اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیش رفت کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوششیں نئی قسم کی اجارہ داری یا رسائی میں رکاوٹ کا باعث نہیں بننی چاہئیں اور یہ کہ سلامتی کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کو ٹیکنالوجی سے محروم رکھنے کے ذرائع میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سرپرستی میں نمائندہ اور جامع فورمز پر عالمی سطح پر تمام ممالک کی شرکت کے ساتھ زیر غور لانے پر زور دیا۔انہوں نے جنیوا میں مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے پہلے عالمی مکالمے کا خیرمقدم کیا اور ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کی بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اسے مصنوعی ذہانت کو سب کے لیے اور بھلائی کے لیے ترقی دینے کی جانب ٹھوس قدم قرار دیا۔نائب وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے، عالمی مصنوعی ذہانت کے فرق کو کم کرنے اور سب کے لیے امن و ترقی کی خاطر مصنوعی ذہانت تک مساوی رسائی کو فروغ دینے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔