پاکستان ٹین پن بولنگ فیڈریشن (پی ٹی بی ایف) نے جرمنی کے شہر میونخ میں 12 سے 21 اکتوبر تک منعقد ہونے والی انٹرنیشنل بولنگ فیڈریشن (آئی بی ایف) ورلڈ کپ ٹین پن بولنگ چیمپئن شپ کے لیے قومی سکواڈ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ قومی دستے کی قیادت ٹیم مینیجر محمد حسین کریں گے، جبکہ 4 رکنی پلیئرز سکواڈ میں ملک کے ٹاپ بولرز احمر سلڈیرا، غضنفر بلال، …
جرمنی میں آئی بی ایف ورلڈ کپ، پی ٹی بی ایف نے قومی سکواڈ کا اعلان کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):پاکستان ٹین پن بولنگ فیڈریشن (پی ٹی بی ایف) نے جرمنی کے شہر میونخ میں 12 سے 21 اکتوبر تک منعقد ہونے والی انٹرنیشنل بولنگ فیڈریشن (آئی بی ایف) ورلڈ کپ ٹین پن بولنگ چیمپئن شپ کے لیے قومی سکواڈ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ قومی دستے کی قیادت ٹیم مینیجر محمد حسین کریں گے، جبکہ 4 رکنی پلیئرز سکواڈ میں ملک کے ٹاپ بولرز احمر سلڈیرا، غضنفر بلال، دانیال الرحمٰن اور محمد معیز شامل ہیں۔
چیمپئن شپ کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی بی ایف کے صدر اعجاز الرحمٰن نے بتایا کہ میونخ میں عالمی ٹائٹل کے حصول کے لیے دنیا بھر سے تقریباً 48 ممالک مدِ مقابل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایونٹ میں پاکستان کے علاوہ امریکہ، جرمنی، ملائیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، کویت، چین، کینیڈا، سپین، فرانس، سویڈن، نیدرلینڈز، پولینڈ، ترکیہ ، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ جیسے مضبوط ممالک شرکت کر رہے ہیں۔صدر پی ٹی بی ایف کا کہنا تھا کہ یہ میگا ایونٹ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے دنیا کے بہترین بولرز کے خلاف اپنی صلاحیتوں کو پرکھنے کا ایک بہترین عالمی پلیٹ فارم ہے۔
سکواڈ نے ایونٹ کے لیے سخت اور معیاری تیاری کی ہے اور پوری قوم کو امید ہے کہ کھلاڑی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے بین الاقوامی سطح پر ملکی پرچم سربلند کریں گے۔قومی وفد کی باآسانی روانگی اور ویزا کلیئرنس کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے اعجاز الرحمٰن نے وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) اور پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ویزا درخواستوں، فضائی ٹکٹوں اور لاجسٹک انتظامات کی بروقت تکمیل کے لیے لازمی ‘نو اعتراض سرٹیفکیٹ’ (این او سی) ہنگامی بنیادوں پر جاری کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی فیڈریشن نے سپورٹس بورڈ اور متعلقہ حکام سے خصوصی مالی گرانٹ کی بھی درخواست کی ہے تاکہ قومی دستے کی رجسٹریشن فیس، سفری اخراجات، بولنگ کٹس اور میونخ میں رہائش کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی ٹیلنٹ کو عالمی میدانوں میں روشناس کرانے اور پاکستان کی مسلسل نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے بروقت ادارہ جاتی اور مالی تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔







