بی وائی ڈی-ایم ایم سی کا پاکستان میں اہم سنگ میل، 10 ہزار گاڑیاں سڑکوں پر، مقامی اسمبلی پلانٹ کی تیاری جاری

پاکستان میں بی وائی ڈی کے آفیشل پارٹنر میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) نے اعلان کیا ہے کہ بی وائی ڈی کی 10ہزار گاڑیاں پاکستان کی سڑکوں پرآچکی ہیں

اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں بی وائی ڈی کے آفیشل پارٹنر میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) نے اعلان کیا ہے کہ بی وائی ڈی کی 10ہزار گاڑیاں پاکستان کی سڑکوں پرآچکی ہیں جو ایک اہم سنگ میل ہے، یہ کامیابی پاکستان کی آٹو موٹو صنعت کی تاریخ میں نیو انرجی گاڑیوں (این ای وی ) کی کیٹگری میں کسی نئے برانڈ کی جانب سے تیزی سے مارکیٹ میں جگہ بنانے کی ایک منفرد مثال ہے۔ اس کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی صارفین میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی طلب بڑھ رہی ہے اور لوگوں کا اس جدید ٹیکنالوجی پر اعتماد بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ مقامی سطح پر گاڑیوں کی اسمبلنگ شروع ہونے سے قبل ہی بی وائی ڈی-ایم ایم سی نے پاکستان کی مارکیٹ میں مضبوط جگہ حاصل کرلی ہے۔جمعہ کو جاری بیان کے مطابق بی وائی ڈی نے BYD Atto 3 اور BYD Seal کے ساتھ پاکستانی مارکیٹ میں سفر کا آغاز کیا اور ماڈلز کی تعداد کو بڑھا کر پانچ تک پہنچا دیا ہے۔ اس فہرست میں اب Atto 2 بھی شامل ہے، جو پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی الیکٹرک گاڑی ہے،فہرست میں Sealion 7 اور Shark 6 بھی شامل ہیں جو ملک کی پہلی پلگ ان ہائبرڈ (پی ایچ ای وی) پک اپ گاڑی ہے۔

اس طرح بی وائی ڈی نے مختلف صارفین کی ضروریات اور طرز زندگی کے انداز کے مطابق جدید توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے انتخاب کو مزید وسیع کر دیا ہے۔میگا موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی خان نے کہا کہ 10 ہزار گاڑیوں کی تیاری کا سنگ میل عبور کرنا صرف عددی بہتری نہیں بلکہ پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں ایم ایم سی کی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ ابتدا ہی سے کمپنی کی توجہ طویل المدتی بنیادوں پر کام کرنے، ضروری صلاحیت، انفراسٹرکچر اور مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے پر رہی ہے تاکہ پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کے استعمال کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جاسکے۔ ایم ایم سی کو بی وائی ڈی کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے کیونکہ دونوں کمپنیوں نے مشترکہ طور پر اس وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مل کر کام کیا ہے۔ اگلے مرحلے میں ایم ایم سی پاکستان میں پہلا اور سب سے بڑا نیو انرجی گاڑیوں(این ای وی ) کا اسمبلی پلانٹ قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے جو پاکستان میں گاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے کمپنی کے عزم کا ایک نیا باب ہوگا۔

بی وائی ڈی کی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت صارفین کے اعتماد میں وسیع تر تبدیلی کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ پاکستان میں نئی انرجی گاڑیوں کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے تاہم 10 ہزار گاڑیوں کا سنگ میل عبور کرنا مختلف شعبوں میں بی وائی ڈی-ایم ایم سی کی گاڑیوں کی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔بی وائی ڈی کمپنی لمیٹڈ کے نائب صدر اور ایشیا پیسیفک آٹو سیلز ڈویژن کے جنرل منیجر لیو شولیانگ نے کہا کہ پاکستان بی وائی ڈی کی عالمی کاروباری پیشرفت میں تیزی سے ایک اہم مارکیٹ بن گیا ہے اور پاکستانی صارفین کی جانب سے برانڈ پر اعتماد خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہر وہ بی وائی ڈی صارف جو نیو انرجی ٹیکنالوجی کو اختیار کر رہا ہے، پاکستان کی مارکیٹ کے لیے کمپنی کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ بی وائی ڈی، ایم ایم سی کے ساتھ مل کر پاکستانی صارفین کی ضروریات کے مطابق مناسب وقت پر مختلف ماڈلز فراہم کرنے اور نیو انرجی گاڑیوں کے استعمال کے پورے سفر کے دوران صارفین کو بہتر سہولت دینے کے لئے کام کر رہی ہے۔

بی وائی ڈی اپنی بین الاقوامی معیار کی ٹیکنالوجی اور جدت کو پاکستان میں متعارف کرانے کا سلسلہ جاری رکھے گی اور صارفین کی ضروریات میں تبدیلی کے ساتھ ملک میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دے گی۔پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کے شعبے میں اگلا اہم مرحلہ بھی سامنے آ رہا ہے۔ زیر تعمیر بی وائی ڈی-ایم ایم سی پلانٹ ملک کا سب سے بڑا جدید پلانٹ ہوگا جو خصوصی طور پر نیو انرجی گاڑیوں کی تیاری کے لیے قائم کیا جاریا ہے۔ یہ پلانٹ پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کے شعبے کی ترقی میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور ملک کو درآمد شدہ نیو انرجی گاڑیوں کے فروغ سے مقامی سطح پر ان گاڑیوں کی تیاری کے مرحلے میں داخل کرے گا۔