روانڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر نعیم خان نے پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارتی تعاون کے معاہدہ کو حتمی شکل دینے کے عمل کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے
پاکستان روانڈا تجارتی معاہدہ اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہے، ہائی کمشنر نعیم خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):روانڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر نعیم خان نے پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارتی تعاون کے معاہدہ کو حتمی شکل دینے کے عمل کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ روانڈا کے لیے پاکستان اور وسیع تر بین الاقوامی منڈیوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط بڑھانے کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔کیگالی میں منعقدہ روانڈا-پاکستان انویسٹمنٹ فورم 2026سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نعیم خان نے کہا کہ یہ معاہدہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ فراہم کرے گا اور ساتھ ہی روانڈا کے ذریعے پاکستان کو مشرقی افریقہ سے مزید قریب کرنے میں بھی مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایف ٹی اے خاص طور پرمشرقی افریقہ اور وسیع تر افریقی منڈیوں تک رسائی کے خواہاں پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے خطے میں روانڈا کی جغرافیائی حیثیت ایک اہم گیٹ وے کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ روانڈا کی مصنوعات کے لیے پاکستانی مارکیٹ تک بہتر رسائی کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں منڈیوں میں مصنوعات اور جغرافیائی اعتبار سے تجارت کے تنوع کو بھی فروغ دے گا۔انہوں نے مستقبل میں آزادانہ تجارت کے مزید امکانات پر بھی روشنی ڈالی جس میں ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے)اور بالآخر دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے ( ایف ٹی اے )پر بات چیت شامل ہے۔پاکستانی ہائی کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیا ڈھانچہ روایتی تجارت تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، ویلیو ایڈیشن ، ٹیکنالوجی، جدت اور علاقائی سپلائی چین کے انضمام میں مزید تعاون کی حمایت کر سکتا ہے۔انہوں نے روانڈا اور پاکستان کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کے حامل کئی شعبوں کی بھی نشاندہی کی جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، سیاحت، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، رئیل اسٹیٹ، لاجسٹکس، ای کامرس اور ڈیجیٹل معیشت شامل ہیں۔نعیم خان نے معاہدہ کو عملی کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے میں روانڈا کے نجی شعبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
نئے ڈھانچے کے تحت دونوں ممالک تجارتی سہولت کاری، سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کے بارے میں معلومات کے تبادلے اور نجی شعبے کے اداروں کے درمیان مضبوط روابط کے لیے تعاون کریں گے۔انہوں نے خاص طور پر روانڈا پرائیویٹ سیکٹر فیڈریشن ، چیمبرز آف کامرس اور پاکستان میں دیگر کاروباری تنظیموں کے درمیان تعاون کے مواقع کی بھی نشاندہی کی۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ روانڈا نہ صرف ایک صارف منڈی کے طور پر بلکہ پیداواری مرکز اور وسیع تر افریقی منڈیوں تک رسائی کے گیٹ وے کے طور پر بھی تیزی سے مستحکم ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے روانڈا ایسی پاکستانی کمپنیوں کے لیے انتہائی پرکشش ملک بن سکتا ہے جو علاقائی سطح پر سرمایہ کاری اور سپلائی چین کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ واضح رہے کہ کیگالی انویسٹمنٹ فورم میں دونوں ممالک کے حکومتی نمائندوں، سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور نجی شعبے کے اداروں نے شرکت کی۔ پاکستانی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی نمائش کی اور روانڈا کے ہم منصبوں کے ساتھ کاروباری(بی 2 بی)اور حکومتی سطح (جی 2 جی)پر مذاکرات کیے۔ہائی کمشنر نے روانڈا-پاکستان انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد کی کاوشوں کو سراہا ۔
وفد میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے پیٹرن ان چیف سفیر حمید اصغر خان، چیئرمین سینیٹ کی مشیر اور انٹر پارلیمنٹری سپیکرز کانفرنس کی سفیر مصباح کھر اور وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن و پاکستان افریقہ ہائوس کی سرپرست ڈاکٹر روبینہ ملک کے علاوہ کاروباری رہنما، سرمایہ کار اور نجی شعبے کے نمائندے شامل تھے۔وفد کی فورم میں شرکت نے روانڈا اور وسیع تر مشرقی افریقی منڈی میں پاکستانی کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی نمایاں کیا۔نعیم خان نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک وسیع تر اقتصادی شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتا ہے جس کے تحت روانڈا اور پاکستان روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور مضبوط علاقائی اقتصادی انضمام کی جانب پیش قدمی کر سکتے ہیں۔







