پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا“ کے مترادف ثابت ہوا،”ہمارا مارچ ہماری مرضی“ کہنے والوں کا یہ نہ مارچ ہے نہ مرضی، عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا“ کے مترادف ثابت ہوا، تحریک انصاف نے مارچ کی کوئی تیاری نہیں کی، ہمارا مارچ ہماری مرضی کہنے والوں کا یہ نہ مارچ ہے نہ مرضی

اسلام آباد۔26ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا“ کے مترادف ثابت ہوا، تحریک انصاف نے مارچ کی کوئی تیاری نہیں کی، ہمارا مارچ ہماری مرضی کہنے والوں کا یہ نہ مارچ ہے نہ مرضی۔ وہ ہفتہ کو یہاں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی اور سینیٹر زاہد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں واشگاف الفاظ میں پاکستان اور پوری امت مسلمہ کا مقدمہ پیش کیا جسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں وزیراعظم نے فلسطینی بچی وفا کا ذکر کیا اور اسرائیل کی غزہ، فلسطین، شام اور لبنان میں مظالم کی کھلے الفاظ میں مذمت کی جس پر ہال میں موجود فلسطینی نمائندوں نے بھرپور داد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مناظر اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور فلسطینیوں کے لیے اس کے جذبات محض الفاظ تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ پاکستان نے فلسطین اور غزہ کے لیے امدادی سامان بھجوایا جو خان یونس، مغربی کنارے اور فلسطین کے دیگر علاقوں تک پہنچا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر حکومت پاکستان نے امدادی سامان فلسطین پہنچانے میں خصوصی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فلسطینی میڈیکل طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا بھی ادراک کیا اور خصوصی ہدایات پر فلسطینی طلبہ پاکستان میں اپنی ایم بی بی ایس کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ حکومت ان کی تعلیم اور رہائش کے انتظامات دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ہمارے بھائی ہیں اور وزیراعظم کی جانب سے فلسطین کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنا اور اسرائیلی مظالم کی مذمت، فلسطینی نمائندوں کی جانب سے سراہا جانا پاکستانی قوم کے لیے باعث فخر ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے اسلامو فوبیا، بھارت کی ہندوتوا نظریے اور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی اور ان کے تدارک پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جنگ میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جبکہ پانی روکنے یا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو ایکٹ آف وار قرار دیتے ہوئے بھارت کو واضح وارننگ دی گئی۔ وزیراعظم نے مکہ مکرمہ کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا خطاب ہر مسلمان کے نظریات کی ترجمانی کرتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں امن کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم کی تقریر کا کلپ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی میں کردار کے ساتھ بھارت کی شکست کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے باب المندب اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دیا ہے تاکہ عالمی معیشت پر دباؤ اور تیل کی قیمتیں کم ہوں اور دنیا کو امن کا راستہ اختیار کرنے کا موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر کا اختتام اس بات پر کیا کہ جنگ اور امن دونوں راستے ہیں تاہم امن کا راستہ اختیار کرنا زیادہ جرات کا کام ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کو عالمی تھنک ٹینکس اور دیگر اداروں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے جبکہ پاکستان نے اپنے مؤقف کو عملی اقدامات سے بھی ثابت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جس انداز سے اس پورے معاملے کو آگے لے کر چلے ہیں، یہ محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ ان کے پیچھے ہمارے عملی اقدامات بھی موجود ہیں۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک انصاف کی کوئی تیاری نہیں، میرے ’’ہمت ہے تو آجاؤ‘‘ بیان پر انہیں بڑی آگ لگی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کہتی تھی کہ ہمارا مارچ اور ہماری مرضی، ہم تمہارے کہنے پر نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 27 مارچ کی کال انہوں نے دی تھی، نہ یہ ان کی مرضی ہے اور نہ ہی ان کا مارچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا کا دورہ کیا، ساڑھے 13 سال سے صوبے میں حکومت کرنے والی تحریک انصاف کو سیاسی طور پر اس قدر کمزور کبھی نہیں دیکھا جتنی وہ آج ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی انتظامی طور پر بھی اپنی گرفت کھو چکے ہیں، دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرتے، اسی لیے انہیں بزدل کہتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتوں نے قربانیاں دی ہیں تاہم یہ واحد جماعت ہے جو آج بھی دہشت گردوں کی مذمت سے گریزاں ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صرف 15 منٹ کے لیے ہیلی کاپٹر پر کوہاٹ آئے اور واپس چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں جذبہ موجود ہے۔ میں شہید فہیم اللہ کے گھر گیا تو ان کے والد نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔ ہنگو کے زخمی کو سی ایم ایچ کوہاٹ میں ملنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زخمی نے عزم ظاہر کیا کہ آخری خون کے قطرے تک لڑیں گے اور دہشت گردوں سے نہیں ڈریں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی اونرشپ لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ ان کی نیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹیرر کرائم نیکسس کے تحت بھتہ خوری سمیت دیگر معاملات چل رہے ہیں جبکہ 2026ء میں 4600 سے زائد خودکش حملوں، 400 سے زائد شہادتوں اور 1500 سے زائد زخمیوں کے باوجود صوبائی حکومت نے اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ پولیس، فوج اور سکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں جبکہ صوبائی حکومت بزدلی کے خول میں بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے کوہاٹ کی طرف ڈرون آنے پر کہا گیا تھا کہ کرم کی طرف ایک گولی بھی آئی تو جواب دیں گے، تاہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی اونرشپ نہیں لی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ بزدلی ان کی پالیسی ہوگی، ہماری نہیں، ان شاء اللہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کریں گے اور پاک سرزمین کے دفاع کے لیے جو قدم اٹھانا پڑا اٹھائیں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی انتظامی ساخت کمزور ہے، وہ دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرنا چاہتے اورسیاسی طور پر بھی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں تحریک انصاف کے وزراء اعلیٰ لانگ مارچ لے کر آئے۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی بھرپور میڈیا ہائپ کے بعد پیچھے ہٹنے سے تحریک انصاف کے کارکنان اور پارٹی مایوس ہوئے ہیں، ’’کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا‘‘ کے مصداق کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب پانچ اکتوبر کی تاریخ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وزیراعلیٰ کی بزدلی، کاہلی اور سیاسی نااہلی ثابت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی سیاسی موبلائزیشن نہیں، حکومت نے محض حفظِ ماتقدم کے طور پر اپنے شہروں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تیاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی سیاسی طور پر اپنی ساکھ کھو چکے ہیں اور اپنی پارٹی پر بھی ان کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اس قدر سیاسی کمزوری کا مظاہرہ پہلے کبھی نہیں کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی شخص جرم کرے تو کیا اسے گرفتار کرنے کے لیے سپیکر سے اجازت لی جائے گی، کیا یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ قاتل ہے یا اس نے ڈکیتی کی ہے، اس لیے گرفتاری سے پہلے اجازت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پریویلجز نہ بنائے جائیں جن سے لاقانونیت مزید پھیلے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نہ سی ٹی ڈی بنائی گئی، نہ فرانزک لیب کا مؤثر نظام قائم کیا گیا اور نہ شہروں میں اچھا سیف سٹی نظام بنایا گیا، اب یہ چاہتے ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو گرفتار کرنے سے پہلے سپیکر سے پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس موجود ہے اور یہ اس نیکسس کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، عوام کی انہیں کوئی پرواہ نہیں، یہ انتہائی قابل مذمت بیان ہے، ایسا ہوا تو انارکی کی صورتحال پیدا ہوگی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس میں بڑا جذبہ ہے، جوان اور افسر اپنے مقصد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں، اپنے بھائیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں، مگر اس پولیس فورس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ گزشتہ ساڑھے 12 سال میں نہ انہیں مناسب اسلحہ دیا گیا، نہ جدید آلات اور نہ گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے گاڑیاں دینے کی کوشش کی تو انہوں نے لینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگو اور کوہاٹ کے زخمی اہلکاروں کا جذبہ دیدنی تھا، ایک سگنل کے جوان جس کی کمر پر گولی لگی تھی، نے کہا کہ ملک و قوم کی خاطر گولی کھائی ہے اور صحت یاب ہوتے ہی دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں گا۔ دوسری جانب صوبائی حکومت دہشت گردی جیسے ناسور کے خاتمے کی ضرورت سے بھی لاعلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہادر لوگوں کا کام ہے، بزدلوں سے نہیں ہو پائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیک ڈور چینل ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور ہمارے کچھ لوگ ان کے کچھ لوگوں سے رابطے میں بھی رہتے ہیں، جس سے بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔ تاہم ان کا مسئلہ یہ ہے کہ باہر آکر چیمپئن بنتے ہیں جبکہ بند کمرے میں ملاقات کے دوران ان کا رویہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی راج قائم کیا جائے اور عوام کو اختیار دیا جائے کہ ہسپتال، کالج، یونیورسٹیاں، سکول اور لا اینڈ آرڈر سمیت تمام شعبے بہتر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے، اس کا مقابلہ کرنا ہوگا اور صوبائی حکومت کو اس حوالے سے لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ گورنر راج کے حوالے سے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس ریڈ زون میں اس لیے رکھی گئی کہ دیکھا جا سکے کہ کتنی تعداد میں صحافی یہاں آتے ہیں۔ پی ٹی وی بھی ریڈ زون میں واقع ہے جس پر ماضی میں حملہ کرکے اسے تباہ کیا گیا، آگ لگائی گئی اور شیشے توڑے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راستے کھلے ہیں، کنٹینرز سڑکوں کے کنارے پڑے ہیں، اسلام آباد کا کوئی اہم راستہ بند نہیں اور آمدورفت میں کوئی تعطل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں الیکٹرک وہیکلز چل رہی ہیں، پٹرولنگ بھی ہو رہی ہے، نئی فورسز تشکیل دی جا رہی ہیں اور اینٹی رائٹ فورس بھی قائم کی جا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ فیڈرل سکیورٹی فورسز اور افواج پاکستان روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہی ہیں۔ ہر شخص اپنے پیارے صوبے خیبرپختونخوا کو محفوظ بنانا چاہتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں موقع دیا تو وہ بھی دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے صوبے کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی کا کوئی لیڈر بھی ایسی قربانی دینے کی بات کرنے کو تیار ہے؟ انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی قیادت پر حملے ہو چکے ہیں، اے این پی کی آدھی پارٹی ختم ہو چکی ہے جبکہ جے یو آئی (ف) اور جے یو آئی سمیع الحق نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ تمام سیاسی قوتیں دہشت گردی کے خلاف یکجا اور متحد ہیں، سوائے پی ٹی آئی کے، کیونکہ ان کا دہشت گردوں کے ساتھ کوئی لنک ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر سال خیبرپختونخوا حکومت کو لا اینڈ آرڈر کے لیے رقم دی جاتی رہی ہے کیونکہ یہ صوبائی معاملہ ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے یہ رقم اب ڈیڑھ دو سو ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ 13 سال میں اگر کاؤنٹر ٹیررازم کے لیے دی گئی رقم سے استعداد کار میں اضافہ نہیں ہوا تو صوبائی حکومت بتائے کہ یہ رقم کہاں اور کس چیز پر خرچ ہوئی، کیا یہ جلسوں اور کرینوں پر خرچ کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے تحت لا ءاینڈ آرڈر اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے، افواج پاکستان اور فیڈرل سکیورٹی فورسز بھی قربانیاں دے رہی ہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اور بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ اگر وہ غافل رہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے کہ جو دل میں آئے کرتے رہیں، کم از کم کسی مرحلے پر ان کی مذمت کریں اور ان کو نکیل ڈالیں