عقیل ملک کا پی ٹی آئی مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم، سنجیدہ مذاکرات پر زور

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کو سنجیدہ روابط پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مذاکرات کے حوالے سے تعمیری رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے

اسلام آباد۔26ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کو سنجیدہ روابط پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مذاکرات کے حوالے سے تعمیری رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ہفتہ کونجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے سے قبل پی ٹی آئی میں مذاکرات کے معاملے پر تضاد موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین متعدد بار دعویٰ کر چکے تھے کہ حکومت کے ساتھ پس پردہ مذاکرات جاری ہیں تاہم ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور صوبائی کابینہ مذاکرات کےمخالف تھے اور کوئی بھی ان کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نےسیاسی اختلافات کے حل میں مدد کے لیے پی ٹی آئی کومذاکرات کی پیشکش کی تھی، سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت ہی راستہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ حفاظتی اقدامات برقرار رہیں گے کیونکہ پی ٹی آئی ارکان متعدد منصوبوں کا دعویٰ کر چکے ہیں۔انہوں نےخیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو ناقص طرز حکمرانی پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں صوبے کے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نےسکیورٹی سے متعلق بعض امور کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو نااہل قرار دیا اور کہا کہ وہ تعاون نہ کرنے کا رویہ رکھتے ہیں اور صوبے کے امور چلانے اور اس کی ترقی کے لیے کام کرنے کے بجائے ہمیشہ دیگر معاملات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔