معاشی استحکام اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے،قومی معیشت اب صنعت کاری اور برآمدات میں اضافہ پر مبنی پائیدار ترقی ا ور روزگار پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی متقاضی ہے،پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک طاقتور معیشت بن کر ابھرے گا ، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کراچی۔1اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاشی استحکام کو ٹیم ورک اور مسلسل محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت اب صنعت کاری اور برآمدات میں اضافہ پر مبنی پائیدار ترقی اور روزگار پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی متقاضی ہے، معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے نجی شعبے اور سرمایہ کاروں کا کردار کلیدی ہے، تعمیراتی صنعت کا فروغ ملکی معیشت اور روزگار …

کراچی۔1اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاشی استحکام کو ٹیم ورک اور مسلسل محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت اب صنعت کاری اور برآمدات میں اضافہ پر مبنی پائیدار ترقی اور روزگار پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی متقاضی ہے، معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے نجی شعبے اور سرمایہ کاروں کا کردار کلیدی ہے، تعمیراتی صنعت کا فروغ ملکی معیشت اور روزگار کیلئےضروری ہے، معاشی حالات کی بہتری میں سیاسی اور عسکری قیادت کا باہمی تعاون نہایت اہم ہے،حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ طویل عرصے سے زیر التوا اصلاحات کو عملی جامہ پہنایا ہے ، پاکستان ان شاء اللہ دنیا کے نقشے پر ایک طاقتور معیشت بن کر ابھرے گا ۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس کی لسٹنگ کے موقع پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منعقدہ گونگ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ، میاں ریاض حسین پیرزادہ، ڈاکٹر مصدق ملک وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھےجبکہ تقریب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان، ممتاز کاروباری رہنما عارف حبیب اور کارپوریٹ شعبے کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں کیک بھی کاٹا گیا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو اب اپنی معیشت میں ترقی، بالخصوص برآمدات پر مبنی گروتھ دکھانا ہوگی، جس کے نتیجے میں روزگار، پیداواری سرگرمیوں، اشیا و خدمات کی ترسیل اور برآمدات میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی معیشت کو مزید استحکام ملے گا جبکہ نجی شعبے کو آگے بڑھانا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان شاء اللہ دنیا کے نقشے پر ایک بہت طاقتور معیشت بن کر ابھرے گا اور دنیا میں پاکستان کی عزت اور وقار میں بہت اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مشکل حالات سے نکال کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان ہونے والا ٹیم ورک مثالی ہے جس پر وزیر خزانہ، ان کی ٹیم، متعلقہ وزرا، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور دیگر اداروں کے سربراہان مبارکباد اور تحسین کے مستحق ہیں۔وزیراعظم نے نیویارک اور لندن میں اپنے حالیہ دوروں کے دوران بین الاقوامی بینکاروں اور مالیاتی شعبے کے رہنماؤں بشمول سٹی بینک ، جے پی مورگن اور بارکلیز کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی جانب سے طویل عرصے سے زیر التوا ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عملدرآمد کو سراہا اور کہا کہ حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ طویل عرصے سے زیر التوا اصلاحات کو عملی جامہ پہنایا ہے جس کے نتیجے میں آج پاکستان میں پرکشش حالات دیکھے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نیویارک میں منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہاکہ ’’پرائم منسٹر، یہ نیا پا کستان ہے

‘‘ جس پر میں نے جواب دیا کہ یہ نیا پاکستان نہیں بلکہ ایک نئی ٹیم ہے جس نے مل کر پاکستان کے معاشی حالات کو سدھارا ہے۔محمد شہباز شریف نے کہا کہ یہ ٹیم ورک ہے جس میں سیاسی اور عسکری قیادت عظیم شراکت داروں کے طور پر اس انتہائی ذمہ داری کے کام کو آگے لے کر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح بیرونی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بھی اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔ اب اصل ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت میں گروتھ دکھائی جائے اور یہ بنیادی طور پر برآمدات پر مبنی گروتھ کے ذریعے ہونی چاہیے۔

اس سے روزگار، پیداواری روزگار، پیداوار، اشیا اور خدمات کی ترسیل اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، جس سے پاکستان کی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ تمام کام نجی شعبے نے کرنا ہے، اسی مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ بجٹ میں برآمد کنندگان، مینوفیکچررز اور صنعتوں کے لیے کئی سو ارب روپے کی ٹیکس مراعات رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے تعمیراتی صنعت کا ذکر کرتے ہوئے عارف حبیب کو نئے ناظم آباد کو "ریٹ” کے اسٹرکچر میں لانچ کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ لاہور اور کراچی میں اسی اسٹرکچر کے اندر رہتے ہوئے تعمیر کیے گئے پروجیکٹس انتہائی قابل تعریف ہیں۔کیپٹل مارکیٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس میں بہت اچھی پرفارمنس ہے، تاہم اب بھی اس میں کچھ سقم اور کمزوریاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کی سٹاک ایکسچینجز کو سامنے رکھتے ہوئے کیپٹل مارکیٹ میں جو تبدیلیاں لانی چاہئیں، ان کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔محمد شہباز شریف نےبعض ایسی صنعتوں کی کارکردگی پر تشویش ظاہر کی اور درآمدی متبادل کے مقصد کے لیے قائم کی گئی صنعتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 60 سال پہلے اس حوالے سے ایک مضبوط وژن کے تحت کچھ صنعتیں قائم کی گئیں، انہیں سپورٹ اور سبسڈی دی گئی تاکہ یہ صنعتیں ترقی کریں، روزگار اور پیداواری روزگار فراہم کریں اور اپنی پیداوار آگے بڑھائیں۔ انہوں نے قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینے اور دیانت دارانہ طرز عمل اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی جدید مشینری، پیداواری صلاحیت اور محنت سے ہی ممکن ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حالت اس وقت بدلے گی جب خون پسینہ بہایا جائے، دن رات محنت کی جائے اور پاکستان کو اس مقام تک لے جایا جائے جو اس کا مقام ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر عارف حبیب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے دی جانے والی مراعات کے نتائج آہستہ آہستہ سامنے آ رہے ہیں اور کراچی میں بالخصوص یہ صنعت اب ٹیک آف کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی ان کے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس شعبے پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کافی نہیں کہ 40 صنعتوں کی مصنوعات کنسٹرکشن انڈسٹری میں استعمال ہوتی ہیں، بلکہ فائلز کے ایکسچینج کو ختم کرنا ہوگا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ یہ ایک شاندار ٹیم ورک ہے اور ٹیم ورک کے بغیر کبھی نتائج حاصل نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک روشن مثال ہے جسے آگے چل کر ہر شعبے میں اپنایا جائے گا تو ان شاء اللہ نتائج بہت اچھے اور خوشگوار ہوں گے۔انہوں نے چیئرمین نیب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کی زمینیں نہ صرف ریکور بلکہ ڈسکور کی ہیں ۔ وزیراعظم نے لینڈ بینک قائم کرنے کے منصوبے کو بھی سراہا۔انہوں نے وزیر خزانہ، کابینہ کے ارکان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور وفاقی سیکرٹریوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے معاشی استحکام کا ایسا قابلِ عمل ماڈل قائم کیا ہے جسے دیگر شعبوں میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے اور جس کے نتیجے میں پاکستان پائیدار ترقی کی راہ پر واپس آیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحات پر کامیاب عملدرآمد اور معاشی استحکام سیاسی اور مالیاتی قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی پر مبنی مربوط شراکت داری کا نتیجہ ہے۔اہم معاشی اشاریوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 3 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈ کا کامیاب اجرا کیا جس کے لیے 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں جبکہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 21.4 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کارکردگی بھی حوصلہ افزا ہے۔تاہم وزیراعظم نے استحکام سے ترقی کی جانب پیش قدمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کو ٹیکنالوجی، روزگار کے مواقع، پیداوار اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے ذریعے آگے بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور مختلف صنعتی شعبوں بشمول تعمیرات کے شعبے کے لیے سینکڑوں ارب روپے کی ٹیکس مراعات اور سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے مسلسل حمایت اور عزم پر خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ ایسی مخلصانہ اور مسلسل کوششوں کے ذریعے پاکستان ایک مضبوط معیشت بن کر ابھرے گا اور اقوام عالم میں اپنا مقام اور نام پیدا کرے گا۔

قبل ازیں ممتاز کاروباری شخصیت عارف حبیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کی کارکردگی علاقائی مارکیٹوں کے مقابلے میں نمایاں رہی ہے، کیپٹل مارکیٹ کی جانب سرمایہ کاروں کا رجحان بڑھ رہا ہے، پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ عارف حبیب نے کہا کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لہٰذا پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ بہتر انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں