معاشی استحکام اوراصلاحات کاتسلسل برقراررہے گا، چارٹرآف اکانومی وقت کی ضرورت ہے، ریکوڈک گیم چینجرمنصوبہ ہے ،وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب کی میڈیاسے گفتگو
معاشی استحکام اوراصلاحات کاتسلسل برقراررہے گا، چارٹرآف اکانومی وقت کی ضرورت ہے، ریکوڈک گیم چینجرمنصوبہ ہے ،وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب کی میڈیاسے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ رواں مالی سال محصولات کے اہداف کے حصول کے ساتھ ملک میں حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی میں تبدیل کرنا، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنا اور نجی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، چارٹرآف اکانومی وقت کی ضرورت ہے،سیاسی جماعتوں کے درمیان معیشت کے بنیادی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے، ایک دن کے لیے معیشت رکنے سے تقریبا 120 ارب روپے تک کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے، ریکوڈک پاکستان کےلئے گیم چینجرمنصوبہ ہے۔ جمعرات کوکراچی میں اوورسیزانویسٹمنٹ چیمبرآف کامرس میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ اپریل 2025 سے اب تک پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی ہے اور اگر موجودہ معاشی سمت برقرار رہی تو رواں سال کے اختتام یا آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی تک پاکستان کے بی پلس ریٹنگ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ پاکستان کی گزشتہ تقریبا چار دہائیوں میں بہترین خودمختار ریٹنگ بی پلس رہی ہے تاہم حکومت کی طویل المدت خواہش کم از کم ڈبل بی کیٹیگری میں داخل ہونا ہے، معاشی استحکام کوئی خودکار عمل نہیں بلکہ اس کے لیے سب سے پہلے مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا ضروری ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کو اس حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ دو بڑے مقامی کنسورشیمز نے تقریبا 1.2 ارب ڈالر کی بولی دی جبکہ بڑے کاروباری گروپس نے انفرادی طور پر بولی لگانے کی بجائے باہمی تعاون کو ترجیح دی جس سے مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے ،مقامی سرمایہ کاروں کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری میں نمایاں غیر ملکی دلچسپی سامنے نہیں آئی تاہم نجکاری کے اگلے مرحلے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، ہوائی اڈوں کی آئوٹ سورسنگ، انشورنس کمپنیوں، زرعی ترقیاتی بینک اور دیگر اداروں میں غیر ملکی دلچسپی سامنے آ رہی ہے۔ پہلے تین ڈسکوز کی نجکاری کے عمل میں سعودی اور ترک سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے علاوہ تین ترک کمپنیوں کا مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ شامل ہونا بھی اہم پیش رفت ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی سے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے ، لندن میں جاری کیے گئے تین ارب یورو کے بانڈ کے آرڈر بک کو جاری کردہ حجم سے تقریبا دوگنا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایشیا، مشرق وسطی، یورپ اور امریکا کے ممتاز سرمایہ کاروں کی شرکت پاکستان کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ موجودہ معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے کیونکہ ماضی میں پاکستان کئی مرتبہ بوم اینڈ بسٹ سائیکلز سے گزرا ہے اور معاشی بحران سے نکلنے میں کئی سال لگے۔ محض نظام میں کیش بڑھا کر یا کھپت پر مبنی ترقی کے ذریعے چھ، سات یا آٹھ فیصد شرح نمو حاصل کرنا دیرپا حل نہیں کیونکہ درآمدات میں تیزی کے نتیجے میں دوبارہ ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہو سکتا ہے اس لیے اقتصادی ترقی کو برآمدات پر مبنی سمت میں آگے بڑھانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ مالی سال میں شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ رواں مالی سال کے لیے چار فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں، نجکاری اور پبلک فنانس سمیت تمام شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔وزیرخزانہ نے طویل عرصے تک بلند ٹیرف کے ذریعے تحفظ حاصل کرنے والی مقامی صنعتوں کو اب عالمی مسابقت اور برآمدات کی طرف بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں متعدد صنعتوں کو اس توقع کے ساتھ تحفظ دیا گیا کہ وہ وقت کے ساتھ برآمدات اور مقامی پیداوار میں اضافہ کریں گی، ان حفاظتی اقدامات میں موثر سن سیٹ کلازز موجود نہیں تھے۔ اب ہر شعبے کو اپنی استطاعت کے مطابق برآمدات کی طرف بڑھنا ہوگا، چاہے کوئی شعبہ پانچ فیصد، دس فیصد یا اس سے زیادہ برآمدات کرے۔
انہوں نے کہاکہ برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے صنعت کو تین بنیادی سہولیات درکار ہیں، جن میں مسابقتی توانائی، مسابقتی ٹیکس اور مسابقتی فنانسنگ شامل ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں سپر ٹیکس کے خاتمے اور بعض ٹیکس سلیبز میں کمی کے ذریعے صنعت کو ریلیف دیا گیا ہے جبکہ برآمد کنندگان کو تقریبا ساڑھے چار فیصد شرح پر فنانسنگ دستیاب ہے جو موجودہ تقریباً 11.5 فیصد پالیسی ریٹ کے مقابلے میں نمایاں سہولت ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت اپنی ذمہ داری کے مطابق نجی شعبے کو سہولت فراہم کرے گی تاہم صنعت کو بھی اپنی پیداواریت بہتر بنانے، کاروباری اور آمدنی کے ماڈلز کا ازسرنو جائزہ لینے اور عالمی مسابقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے، جو کاروباری طریقہ کار گزشتہ 30 یا 40 سال سے رائج ہیں وہ بدلتے عالمی معاشی نظام میں لازماً قابل عمل نہیں رہیں گے۔
چارٹر آف اکانومی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ہر معاملے پر مکمل اتفاق رائے ضروری نہیں تاہم معیشت کے بنیادی معاملات پر دو تین نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے ، بنگلہ دیش میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن برآمدی شعبے کے بنیادی مفادات پر اتفاق ہے ۔ معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ کو خودکو نقصان پہنچانے کااقدام قراردیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ ایک دن کے لیے معیشت رکنے سے سروسز، زراعت اور صنعت پر پڑنے والے اثرات کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور مختلف شعبوں میں روزانہ تقریباً 120 ارب روپے تک کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ دسمبر میں ہونے والی ہڑتال کے باعث برآمدی سرگرمیوں کو معمول پر لانے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ لگا کیونکہ سپلائی چین ایک مرتبہ متاثر ہونے کے بعد فوری طور پر بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ اگر مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں تو ملک کو غیر ضروری معاشی مشکلات سے بچانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو بیٹھ کر معاملات حل کرنے چاہئیں۔ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو حقیقی تجارت اور سرمایہ کاری کے بہائو میں تبدیل کرنا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ خطے کے دیگر ممالک میں پیدا ہونے والی صورتحال کا پاکستان سے تقابلی جائزہ ضروری ہے۔ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی، نہ پٹرول کے حصول کے لیے قطاریں لگیں اور نہ ہی اس حوالے سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی۔ معاشرے کے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کو تحفظ دینے کے لیے دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں اور مخصوص کم انجن صلاحیت والی گاڑیوں کے صارفین کو ہدفی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
ہدف پرمبنی ریلیف کے لیے نئے غیر ضروری اخراجات پیدا کرنے کی بجائے سرکاری اخراجات میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صاحبِ استطاعت طبقات کو عمومی سبسڈی دینے کی بجائے محدود وسائل زیادہ ضرورت مند طبقات تک پہنچانا حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے حوالے سے سوال پروزیرخزانہ نے کہاکہ اس معاملے میں تین سے چار ماہ تک وسیع مشاورت کی گئی، متعدد پریس کانفرنسز ہوئیں، پارلیمنٹ میں معاملہ زیر بحث آیا اور تاجروں و کاروباری نمائندوں کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کی گئیں، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا، وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ ریٹیلرز کے لیے مجوزہ نظام میں کوئی ایسا خلا نہ چھوڑا جائے جس کی وجہ سے تاجر ٹیکس نیٹ میں آنے سے گریز کریں۔ ریٹیلر سکیم میں رجسٹریشن، ٹیکس اور دیگر اقدامات کی تفصیلات پہلے ہی واضح کی جا چکی ہیں کسی مرحلے پر دکان سیل کرنے یا دیگر انتظامی کارروائی کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ بھی اسی پارلیمنٹ سے منظور شدہ سکیم کا حصہ ہوگی، اس کے لیے کوئی نئی اختراع نہیں کی جائے گی۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے باوجود اگر ٹیکس نیٹ میں توسیع کا عمل آگے نہ بڑھا تو انفورسمنٹ کی طرف جانا ہوگا۔ دستاویزی کارپوریٹ اور تنخواہ دار طبقہ طویل عرصے سے ٹیکس کا بڑا بوجھ اٹھا رہا ہے اس لیے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرکے بوجھ کو زیادہ وسیع بنیادوں پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی کارپوریٹ سیکٹر کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے جبکہ سپر ٹیکس ختم اور بعض سلیبز کم کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ معاشی استحکام کے بعد مقامی سرمایہ کاری کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
امریکا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ساتھ ریفائنری اپ گریڈیشن اور دیگر منصوبوں میں امریکی برآمد کنندگان کی معاونت کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبے میں تقریبا ًپانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے، اگر ہنی ویل جیسی امریکی کمپنیاں پاکستانی ریفائنریوں کے ساتھ کام کرنا چاہیں تو یو ایس ایکسم بینک سے ان کے لیے معاونت کی درخواست کی گئی ہے۔ اسی طرح پی آئی اے کی جانب سے بوئنگ طیاروں کی خریداری کی صورت میں بھی معاونت پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے سوال پروزیرخزانہ نے بتایا کہ تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ بدستور برقرار ہے اور منصوبے کے سپانسر بیرک گولڈ کی جانب سے سکیورٹی ریویو جاری ہے۔ منصوبے کی فنانسنگ آئی ایف سی کی قیادت میں قائم سنڈیکیشن کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔ یو ایس ایکسم بینک اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ سمیت متعلقہ مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ سکیورٹی ریویو مکمل ہونے کے بعد ریکوڈک منصوبے پر پیش رفت ہوگی،یہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم اور گیم چینجر منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی مختلف ممالک میں ملاقاتوں اور مذاکرات کا مقصد تجارتی اور سرمایہ کاری کے بہائو میں اضافہ ہے، متعلقہ ممالک کی حکومتوں سے بھی ان کی کمپنیوں کو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے لیے معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ ہائوسنگ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت تقریبا 60ً ارب روپے کی رقوم تقسیم ہو چکی ہیں جبکہ بینکاری نظام سے تقریباً 360 ارب روپے کے ہائوسنگ قرضے منظور کیے جا چکے ہیں۔
اب توجہ ہائوسنگ کی سپلائی سائیڈ پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قرض یا الاٹمنٹ حاصل کرنے والے افراد کے لیے رہائشی یونٹس کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ ایس ایم ایز، زراعت، ہائوسنگ اور موسمیاتی فنانس کے شعبوں میں بھی مالیاتی رسائی پرمبنی سرمایہ بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔وزیرخزانہ نے معیشت کے نئے شعبوں، خصوصا ًمصنوعی ذہانت، بلاک چین، ویب تھری اور ڈیجیٹل معیشت کو پاکستان کے لیے اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سال پاکستان نے تقریباً 1.6 ارب ڈالر کی آئی ٹی ایکسپورٹ سروسز حاصل کیں، اس لیے نوجوانوں اور فری لانسرز کو نئی ٹیکنالوجیز میں اپ سکل اور ری سکل کرکے عالمی مارکیٹ میں ان کی آمدن میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
آبادی میں تیز رفتار اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کو پاکستان کے لیے طویل المدت اور وجودی چیلنجز قرار دیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے ساتھ آبادی میں اضافے کی رفتار کو بھی کم کرنا ہوگا۔ اگر پاکستان چھ سے سات فیصد اقتصادی ترقی بھی حاصل کر لے لیکن آبادی میں اضافہ تقریبا 2.5 فیصد سالانہ رہے تو ترقی کے فوائد محدود ہو سکتے ہیں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر آبادی میں اضافے کی شرح کو بتدریج ایک فیصد تک لانے کے لیے مربوط اقدامات ضروری ہیں۔
بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران سمیت بعض مسلم ممالک آبادی میں اضافے کی شرح کو ایک فیصد سے کم کرنے میں پیش رفت کر چکے ہیں اس لیے پاکستان کو بھی اس تجربے سے سیکھتے ہوئے آبادی کے مسئلے کو قومی اقتصادی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا ، اقتصادی ترقی، آبادی اور موسمیاتی تبدیلی تینوں معاملات کو طویل المدت قومی پالیسی کے تناظر میں دیکھنا ہوگا تاکہ موجودہ معاشی استحکام کو پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔








