وزیراعلی پنجاب سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈر شپ کورس کے وفد کی ملاقات،چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت سے متعلق امور پر بریفنگ دی
وزیراعلی پنجاب سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈر شپ کورس کے وفد کی ملاقات،چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت سے متعلق امور پر بریفنگ دی

مزید خبریں
لاہور۔2اکتوبر (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب مریم نوازسے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈر شپ کورس کے وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعلی نے سینئر لیڈر شپ کورس کے شرکاء کا لاہور آمد پر خیرمقدم کیا۔ چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر نے پنجاب حکومت سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔ سینئر لیڈر شپ کورس کے شرکاء نے وزیراعلی مریم نواز کی عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔خیبر پختونخواہ کے افسروں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی کی عوامی خدمات دیکھ کر کے پی کے والوں کو بھی رشک آتا ہے۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈر شپ کورس کے وفد سے فکرانگیز گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی مریم نواز نے کہا کہ بطورخاتون وزیراعلیٰ مجھے بہت زیادہ عزت اوراحترام ملا،ہر حکومت کو پانچ سال پورے کرنا چاہیے ،اگر وہ اچھا کام کررہی ہے،ہر روزسیکھتی ہوں،جانتی ہوں اس سے عوام کی خدمت کے امور میں بہتری آرہی ہے،اچھے کام کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ میں دنیا نے پاکستان کا شاندار امیج اورنیا روپ دیکھا،آرمی ودیگر سکیورٹی ادارے ملک و قوم کی حفاظت کیلئے قابل قدرکام کررہے ہیں،شہادتیں بھی ہورہی ہیں،سکیورٹی داخلی خطرات کا سامنا گڈ گورننس وپرفارمنس سے کیا جا تا ہے،ہم پنجاب،کے پی کے،بلوچستان یا گلگت کی بات نہیں کرتے،سب سے پہلے پاکستانی ہیں،پاکستان میں پالیسی کا تسلسل نہ ہونا ترقی کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے،گورننس بہتر نہیں ہوگی تو ملک ترقی نہیں کرسکتا،گورننس سپورٹ کے بغیر پرفارم نہیں کرسکتے۔
وزیراعلی مریم نوازنے مزید کہا کہ افغانستان میں مسلمان بہن بھائی بستے ہیں، مگر پڑوسی ہونے کے ناطے اپنی سرزمین کسی کواستعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے،کچے میں جب آپریشن کرتے تھے تو ڈاکو یہاں سے نکل کر دوسرے صوبائی سرحد عبورکرکے چھپ جاتے تھے،پنجاب میں زیادہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت رہنے سے گورننس کا معیار اچھا ہے،دہشت گردی پنجاب میں اب ان شاء اللٰہ نظر نہیں آئے گی،امن و امان کنٹرول میں ہے،مگر ایسا بھی نہیں کہ خطرہ نہیں،حملے نہیں ہوسکتے،ہم ہر وقت تیار رہتے ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیگر صوبوں میں بھی پولیس کومزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ داخلی اورخارجی سکیورٹی کے لئے ہمارے لوگ لڑ رہے اورشہید ہورہے ہیں،ہمارے بچپن میں خیبرپختونحواہ کے علاقوں کی خوبصورتی اورشان متاثر کن تھی،لوگ کہتے ہیں کہ گٹر کے ڈھکن لگانا سی ایم کا کام نہیں ،مگرہر لیول پر جا کرکام کرتی ہوں،دفتر سے بیٹھ کر شیشے سے باہر دیکھتے رہیں، تو سب اچھا لگتا لیکن حقیقت ایسی نہیں ہوتی،پہلے پنجا ب میں 70علاقے نوگو ایریاکہلاتے تھے،اب پنجاب میں کوئی نو گو ایریا نہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ14کروڑ عوام کی حفاظت کی ذمہ دار ہوں،ایسے فیصلے کرنے پڑے جو پہلے نہیں کیے گئے،پنجاب میں حکومت سنبھالی تو دن رات قتل و غارت تھی،مافیا،ڈالا کلچر اوروڈیرا کلچر عام تھا،کالا ویگو ڈالا،گارڈز اوراسلحہ کی نمائش اب پنجاب میں نہیں نظر آئے گی، پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70فیصد تک کمی آئی،پولیس والوں کی برسوں پرانی عادتیں بدلنا مشکل کام تھا۔وزیراعلی مریم نواز نے کہا کہ بزدار کے بعد حکومت سنبھالی تو بنیادی نوعیت کے کام بھی نئے سرے سے کرنے پڑے،حکومت سنبھالی،رمضان شریف میں پتہ چلا کہ ہمارے پاس عوام کا ڈیٹا ہی نہیں،دو سال میں پنجاب کی تمام آبادی کا ڈیٹا سوشل اکنامک رجسٹری کے ذریعے تشکیل دیا گیا،اب پنجاب ون میپ ہے،ایک کلک کرنے سے ہر قسم کا ڈیٹا سامنے آجاتا ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ یو این ہیبیٹیٹ نے اپنی چھت اپنا گھر کو دنیا بھر کے پانچ بہترین ہائوسنگ پراجیکٹ میں شامل کیا،اپنی چھت اپنا گھر کے تحت ایک لاکھ 30ہزار گھر بن چکے اورایک لاکھ زیر تکمیل ہیں،اپنی چھت اپنا گھر جیسے پراجیکٹ جرات مند فیصلوں کا نتیجہ ہے،ہر مرحلے پر چیک کرتے ہیں کہ اپنی چھت اپنا گھر کے تحت کسی غلط بندھے کو قرض نہ مل جائے،کیونکہ ہمارا ریکارڈ شاندار نہیں،ہر پراجیکٹ میں عوامی فیڈ بیک کیلئے 15سے 20ہزار تک کال کر کے ردعمل لیا جاتا ہے،اپنی اچھت اپنا گھر کے ہرقرض لینے والے کے پاس ایک جذباتی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اپنی چھت اپنا گھر کا لون نہ ملتا تو گھر نہ بنا پاتے،ریاست کا کام ہے کہ اپنے عوام کا خیال رکھے،اپنی چھت اپنا گھر کے تحت5سال میں 5لاکھ گھر بنانے کا ہدف دے دیا،ہماری کوئی سکیم ایسی نہیں جس میں لوگ قرضے واپس نہیں کررہے،ایسا کوئی نہیں ہے جس نے پیسے لیے اوربھاگ گیا ہو۔
وزیراعلی مریم نواز نے بتایا کہ گورننس 24/7ہوتی ہے ،صرف آفس کے اوقات کار میں نہیں ہوتی،مال و مویشی فارمر کا اثاثہ ہوتے ہیں،مال مویشی چھن جائے تو روز گار جاتا رہتا ہے،پنجاب میں اب کسانوں، عورتوں، بچوں سمیت سب کیلئے احساس تحفظ بڑ ھ رہا ہے،بچوں اورعورتوں کے خلاف جرم سرزد ہوجائے تو مجرم کی گرفتاری تک چین سے نہیں بیٹھتے،ایڈمنسٹریشن اورلا اینڈ آڈر کیلئے الگ الگ گروپ بنائے ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ پنجاب میں صنفی امتیاز بالکل نہیں،سیکرٹری، کمشنر، ڈی پی او اوروزیر خواتین ہیں،خواتین نے کبھی اپنی کارکردگی سے مجھے مایوس نہیں کیا، پنجاب میں خواتین اوراقلیتوں کا کوٹہ ختم کر کے سب کیلئے مساوی مواقع مہیاکردیئے ہیں،ٹرائی باڈر ایریا میں چیک پوسٹوں پر ڈرون سے حملے ہوتے تھے،ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں بھی بہت قیمتی ہیں،
سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کیلئے مضبوط بنکر،چیک پوسٹیں بنائیں،اسلحہ اورنائٹ ویژن کیمرے دیئے،پنجاب میں دہشت گر دوں کی بروقت نشاندہی کیلئے چیک پوسٹوں پر 24/7سرویلنس کی جاتی ہے، پنجاب میں ہم سب لوگ ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں،شہباز شریف صاحب نے لاہور میں سیف سٹی اتھارٹی قائم کی،اب 40اضلاع میں سیف سٹی اتھارٹی کام کررہی ہیں،سیف سٹی اتھارٹی کیمروں سے نگرانی کے علاوہ گندگی کی نشاندہی کاکام بھی لے رہے ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ پچھلے سال بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا،لگتاتھا پانی کبھی اترے گا ہی نہیں،پانچ لاکھ سیلاب متاثرین کو مہمانوں کی طرح رکھا
،پنجاب میں انسان ہی نہیں بلکہ ہر جاندار کی قدرو قیمت ہے،سیف سٹی کی طرف سے بجلی کے تار میں پھنسے پرندے کی ویڈیو آئی تو ریسکیو ٹیم نے آزاد کرایا،یہ آج کا پاکستان اورپنجاب ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو عوام سے بدسلوکی نہ کرنے اوررشوت نہ لینے کا پابند بنانے کیلئے باڈی کیم لگا رہے ہیں،ہجوم سے نمٹنے کیلئے پنجاب میں سپیشل فورس قائم کی،پینک بٹن دبانے پر کیمرے سے فورا لوکیشن ٹریس کر کے پولیس پہنچ جاتی ہے،گھریلو تشد د کی شکار خواتین پولیس سٹیشن نہیں پہنچ سکتیں،ان کیلئے ورچوئل پولیس سٹیشن بنائے،ورچوئل پولیس سٹیشن کے ذریعے پانچ سے چھ لاکھ کیس حل کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو آگ لگانے اورنقصان پہنچانے کا بھی سدباب کیاگیا ہے،عید میلاد النبیؐ ۖہو، جلوس ہویا مجالس حکومت پنجاب ساتھ ہوتی ہے،شیخوپورہ میں بدامنی کے واقعات پر ٹیکنالوجی اورمحنت کر کے قابو پایا،ایسے مواقع آئے جب فیصلہ کرنا تھا خود کو بچائو یا عوام کو بچائو، میں نے عوام کو ترجیح دی،مذہب کے فیصلے اپنے ہاتھ لینے والوں کے خلاف کارروائی کی کسی میں جرات نہیں تھی،جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے ،اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے،بہتر گورننس کے لئے بروقت فیصلہ سازی اوربروقت عملدرآمد بھی ضروری ہے،کرپشن کے سدباب کیلئے پائیدار انتظامات کیے،ایک ہزارپولیس والوں اوررریونیو ملازمین کو نکالا،رشوت مانگنے اورلینے والوں میں قانون کا خوف پیدا کیا۔
وزیراعلی نے کہا کہ صرف اپنے بارے میں سوچوں تو کچھ نہیں کرسکتی تھی،ستھرے پنجاب کے ذریعے پنجاب کے چپے چپے کی صفائی کررہے ہیں، ستھرا پنجاب دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروگرام ہے، اب ہر نئی بننے والی سڑک کے کنارے شجر کاری ضروری قرار دی گئی ہے،پنجاب میں پانچ کروڑ درخت لگا چکے ہیں۔ وزیراعلی مریم نواز نے بتایا کہ ماحولیات کی بہتری کیلئے مریم اورنگزیب نے قابل قدر کام کیا،چین نے سموگ کے خاتمے کیلئے 30سال لگائے،الحمدللہ ڈھائی سال میں سموگ کنٹرول میں آگئی ہے،8سال میں ہر ستمبر اوراکتوبر میں مارکٹیں وسکول بن ہوجاتے تھے،ہسپتالوں میں لائنیں لگ جاتی تھیں،انڈسٹری کی چمنیوں پر لائیو کیمرے کے ذریعے مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ اے آئی کے ذریعے سموگ کی نشاندہی کر کے سموگ گن پہنچ جاتی ہے،پنجاب میں اب بچے بسوں کی چھتوں پر لٹکتے نظر نہیں آتے کیونکہ بہترین الیکٹروبس چل رہی ہے،پٹرول ڈیزل کی قیمت جتنی مرضی بڑھے، الیکٹروبس کا کرایہ 20روپے ہے،ایسے ایسے علاقوں میں الیکٹروبس چلائی ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔وزیراعلی نے کہا کہ پنجاب کا بارڈر ختم ہوتو سڑک الیکٹروبس،صفائی سب ختم ہوجاتا ہے،بورڈ کی ضرورت ہی نہیں ،پنجا ب ختم ہوتو ویسے ہی صورتحال دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے،پنجاب کو اتنا ہی پیسہ ملتا تھا جتنا بزدار کے زمانے میں ملتاہوگا،یہاں ہمیں بھی اتنے ہی وسائل میسر ہیں جتنے باقی سب کیلئے ہیں،پنجاب کے حق کھانے کی بات دراصل نااہلیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے، بزدار دور میں دوائیاں بند ہونے پر کینسر کے مریض روڈ پر آگئے تھے،اب لوگوں کو گھر بیٹھے امراض دل، بلڈپریشر اورانسولین وغیرہ مل رہی ہیں۔
وزیراعلی نے کہا کہ مریم کی دستک کے ذریعے 4.3ملین خدمات کی ڈلیوریز گھروں میں کر چکے ہیں،پنجاب میں ویسٹ کو انرجی میں بدلنے پر کام کیا جا رہا ہے،40ہزار کلو میٹر سڑکیں کی تعمیر ومرمت کی اور60،70 سال پرانی سیوریج لائن کو اربوں لگا کر بنا رہے ہیں،اب تیز بارش ہو تو چند گھنٹو ں میں نکاسی کا کام مکمل ہوجاتا ہے،غریبوں کے علاقے میں بھی پہلی مرتبہ گلیاں اوربازار خوبصورت بنارہے ہیں،الیکٹروبس لاہور میں بعد میں آئی ،پہلے لیہ بھکر،میانوالی جیسے شہروں میں آئی، میرے نزدیک چھوٹے بڑے شہر کا کوئی فرق نہیں، ترقی سب کا حق ہے،پنجاب میں 15ہزار بچے امراض دل کی وجہ سے سرجری کے منتظر تھے،اب سب کے آپریشن ہوچکے ہیں،ہم نے صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ دیگر صوبوں سے آنیوالے بچوں کا بھی مفت علاج کیا۔وزیراعلی مریم نوازنے کہا کہ جتنا ہمارا کام زیادہ نظر آتا ہے ،اتنے ہی تنقید اورحملے زیادہ ہوتے ہیں،10کروڑ لوگوں کا علاج کیا،43ہزار کلو میٹر سڑکیں بنائیں، لیکن صرف جہاز پر بات کرتے ہیں،
اربوں روپے کے ہیلی کاپٹر لے لیئے جاتے ہیں لیکن تنقید صرف پنجاب پر ہوتی ہے،کے پی کا سی ایم سرکاری پولیس،ایمبولینس لے کر پنجاب پر وارد ہوتا ہے،یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے، جواب دیں،لا اینڈ آڈرمیں بہتری،50ہزار سکول،صفائی کسی پر بات نہیں کرتے، بلکہ جہاز پر ہی بات ہوتی ہے،ہزاروں کلاس روم،ٹائلٹ اورکمپیو ٹر لیب بن رہی ہیں،پرائمری میں اے آئی پڑھائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ لاکھ بچوں کو مارکیٹ بیس،سکل ڈویلپمنٹ ٹریڈ سے آراستہ کیا ہے،
نوجوانوں کو خود روزگار کے لئے 10لاکھ سے 2کروڑ تک قرضے دیئے ہیں،کاشتکار کو ربیع اورخریف کی فصلوں کیلئے کھاد بیج اورپیسٹی سائیڈ کیلئے بلا سود قرضے ملتے ہیں،30لاکھ ٹریکٹر بھی دیئے ہیں،ہر ڈسٹرکٹ میں ایمرجنسی اورکیتھ لیب بنا رہے ہیں،ہسپتالوں کو انفکشن فری کرنے کیلئے مکمل دھلائی ہوتی ہے،50ہزارکمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز گھر گھر جا کر لوگوں کے بارے میں بیماریوں کا ڈیٹا لے رہی ہیں،سپیشل ایجوکیشن میں سٹیٹ آف دی آرٹ آٹزم سکول بنایا گیا ہے،
ہمارے سکول آف ایمننس ایچی سن سے بھی بہتر ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ 2لاکھ30ہزار افراد کو گھر بنانے کیلئے لون مل چکے ہیں،پنجاب میں لوگ قانون کا احترام کرنا سیکھ چکے ہیں،کوڑا پھینکنے پر جرمانہ ہوگا،لوگوں کے اندر پاکستانیت پیدا کرنی ہوگی۔وزیراعلی نے مزید کہا کہ 14اگست کو لبرٹی میں سب سے بڑا آزادی شو کیاگیا،اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کر کے اور شاباش دے کر کام لیتی ہوں،کسی کے ساتھ کوئی ذاتی رنجش نہیں رکھتی اورنہ کسی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہوں،پنجاب میں 100فیصد میرٹ یقینی بنایا،کسی کی سفارش نہیں مانتی،نہ لوگ اب مجھ سے کسی کی سفارش کرتے ہیں۔








