جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم کا اے آئی ایپلی کیشنز میں سرمایہ کاری پر زور
جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم کا اے آئی ایپلی کیشنز میں سرمایہ کاری پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ایسی ایپلی کیشنز میں فوری اور منصوبہ بندی کے ساتھ سرمایہ کاری پر زور دیا ہے جو معیشت کے لئے عملی فوائد پیدا کر سکیں۔انہوں نے یہ ان خیالات کا اظہار کیلیفورنیا کی ناپا ویلی میں جی ایس ایم اے نووا فیوچر سمٹ کے موقع پر کیا۔عامر ابراہیم نے کہا کہ جو ممالک اور کاروباری ادارے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں تین ترجیحات اے آئی میں فوری سرمایہ کاری، بڑے پیمانے پر اس کے استعمال کے لئے درکار انفراسٹرکچر کی تیاری اور اس بات کو یقینی بنانا کہ اے آئی ایسے قابلِ قدر فوائد فراہم کرے جن کے لئے لوگ اور ادارے سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوں ، پر توجہ دینی چاہئے۔
جمعہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق عامر ابراہیم نے کہاکہ ممالک کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں سرمایہ کاری کے حوالے سے واضح حکمت عملی اپنانے اور ابھی سے سرمایہ کاری شروع کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان جیسے ممالک کے لئے ضروری ہے کہ ڈیجیٹل ڈیوائیڈ آگے چل کر انٹیلی جنس ڈیوائیڈ میں تبدیل نہ ہو، اسی کے ساتھ ہمیں اس انفراسٹرکچر پر بھی غور کرنا ہوگا جو مستقبل کی ٹیکنالوجی کو سہارا دے گا جس میں ڈیٹا سینٹرز اور انہیں قائم کرنے کے لئے درکار شراکت داریاں بھی شامل ہیں ، اے آئی کو پیداواری صلاحیت میں اضافہ، حقیقی مسائل کے حل اور لوگوں کی روزمرہ زندگی میں عملی بہتری لانے کے لئے استعمال ہونا چاہئے کیونکہ طویل مدتی سرمایہ کاری کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ یہ ٹیکنالوجی حقیقی قدر کیسے پیدا کرتی ہے۔
عامر ابراہیم کے ساتھ جاز جی ایس ایم کے صدر کاظم مجتبیٰ اور کارپوریٹ کمیونیکیشنز اینڈ ای ایس جی کی نائب صدر فاطمہ اختر نے بھی سمٹ میں شرکت کی۔ اجلاس میں ٹیکنالوجی، ٹیلی کام اور کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے عالمی رہنماؤں نے ڈیجیٹل معیشت کے اگلے مرحلے کو تشکیل دینے والے عوامل پر تبادلہ خیال کیا۔سمٹ کے ایجنڈے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، انٹیلیجنٹ کنکٹیویٹی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور کاروبار کے نئے طریقہ کار شامل تھے۔ اجلاس میں ان شراکت داریوں پر بھی بات کی گئی جو ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کو بڑے پیمانے پر عملی فوائد میں تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔
یہ موضوعات پاکستان کے لئے بھی اہم ہیں خصوصاً ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدت کے شعبوں میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششوں کے تناظر میں۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال بڑھنے کے ساتھ کمپیوٹنگ کی صلاحیت، ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش اور انٹیلیجنٹ کنکٹیویٹی میں سرمایہ کاری کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔
ٹیلی کام کمپنیاں اپنے نیٹ ورکس، کاروباری خدمات اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ان ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جاز ورلڈ کی سمٹ میں شرکت نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی اے ائی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو عالمی ٹیکنالوجی رہنماؤں کے سامنے اجاگر کرنے اور ملک میں ڈیجیٹل ترقی کے اگلے مرحلے کے لئے درکار سرمایہ کاری، شراکت داری اور انفراسٹرکچر کے امکانات پر بات چیت کا موقع فراہم کیا۔







