طاہر محمود اشرفی اور ان کے خاندان سے متعلق برطانیہ میں شائع ہونے والی خبروں پر قانونی کارروائی کی جارہی ہے، مولانا محمد اشفاق پتافی

طاہر محمود اشرفی اور ان کے خاندان سے متعلق برطانیہ میں شائع ہونے والی خبروں پر قانونی کارروائی کی جارہی ہے، مولانا محمد اشفاق پتافی

لاہور۔3اکتوبر (اے پی پی):پاکستان علما کونسل کے مرکزی ترجمان مولانا محمد اشفاق پتافی نے کہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے چیئرمین پاکستان علما کونسل طاہر محمود اشرفی، محمد حسن معاویہ اور ان کے خاندان کے خلاف چلائی جانے والی بے بنیاد مہم میں ان پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے پاکستان علما کونسل خود غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کر چکی ہے۔

ہفتہ کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کونسل کا واضح موقف ہے کہ ہر مجاز فورم پر شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا خیرمقدم کیا جائے گا ، ہر الزام کا جواب قانونی فورم پر دیا جائے گااور اسی لیے قانونی راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کسی زیادتی، بے ضابطگی یا قانون کے غلط استعمال کے ثبوت و شواہد موجود ہیں تو انہیں متعلقہ عدالت یا مجاز تحقیقاتی ادارے کے سامنے پیش کیا جائے۔مولانا محمد اشفاق پتافی نے کہا کہ محمد حسن معاویہ خود عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ وزیراعظم سے بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن اور اسپیشل برانچ سے منسوب رپورٹس کے حقائق اور متعلقہ ریکارڈ سامنے لانے کے حوالے سے ان کی درخواست عدالتی فورم پر موجود ہے اور اس پر فیصلے کا انتظار ہے۔انہوں نے اس دعوے کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا کہ طاہر محمود اشرفی نے مختلف قومی یا بین الاقوامی فورمز پر حکومت پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اپنی علمی و مذہبی شناخت، پاکستان علما کونسل کی قیادت اور مختلف عالمی تنظیموں میں ذمہ داریوں کے باعث وہ قومی و بین الاقوامی فورمز پر مدعو کئے جاتے ہیں اور اپنی ذاتی اور تنظیمی حیثیت میں شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک برطانیہ میں شائع ہونے والے مضامین اور خبروں کا تعلق ہے طاہر محمود اشرفی اور محمد حسن معاویہ اس حوالے سے برطانوی قانون کے مطابق قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ پاکستان علما کونسل ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ الزامات کا فیصلہ پراپیگنڈے یا میڈیا ٹرائل سے نہیں بلکہ شواہد، قانون اور عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ غیر جانب دار تحقیقات کا خیرمقدم کیا جائے گا اور ہر الزام کا جواب متعلقہ قانونی فورم پر دیا جائے گا۔

مزید خبریں