لانگ مارچ کو پنجاب اور اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے ،کے پی کے عوام پی ٹی آئی کی مفاداتی سیاست میں ان کے آلہ کار نہ بنیں، انجینئر امیر مقام

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کے لانگ مارچ کو پنجاب اور اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،کے پی کے عوام ان کی مفاداتی سیاست میں ان کے آلہ کار نہ بنیں

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کے لانگ مارچ کو پنجاب اور اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،کے پی کے عوام ان کی مفاداتی سیاست میں ان کے آلہ کار نہ بنیں،انہوں نے آج تک دہشت گردی کی مذمت نہیں کی،کسی شہید کے گھر تعزیت کرنے نہیں گئے،اس لانگ مارچ کا مقصد بتادیں کیا ہے۔

اگر خیبر پختونخوا کے عوام کے لئے وزیراعلیٰ لانگ مارچ کرتے تو ہم حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تاہم یہ سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لئے لانگ مارچ کررہے ہیں۔پیر کو کشمیر کونسل میں ممبر قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور،سینیٹر زاہد خان اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ میں لوٹ مار میں مصروف ہے،لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست سے پی ٹی آئی اپنی کارکردگی سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے،یہ جماعت اپنے کارکنان کو احتجاج میں مشغول رکھنا چاہتی ہے۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ دہشتگردی صرف خیبرپختونخوا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے،خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،گورنر راج سیاسی طور پر کوئی اچھا فیصلہ نہیں،ایک طرف سیاست ہے دوسری طرف ریاست ہے،کے پی میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے، خیبر پختونخوا میں حالات روز بروز خراب ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں اچھے لوگ بھی ہیں تاہم وزیراعلیٰ سمیت چند لوگ اقتدار اور احتجاج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں،ان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف نرم رویہ نقصان دہ ہے،اس سے کے پی کے عوام اور سیاسی مخصوص جماعتوں کا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات طے پا گئے تھے،چار بار مسودہ تیار ہوا پھر اس کو مشترکہ طور پر جاری کرنے پر بھی اتفاق ہوا تاہم پھر وزیر اعلی کے پی نے لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کرکے اس کو سبوتاژ کیا۔اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لئے یہ لوگ احتجاج کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں،عوام سے اپیل ہے کہ وہ ان کے آلہ کار نہ بنیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔اس کے خاتمے کے لئے سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آج تک وزیراعلی نے کھل کر دہشت گردی کے واقعات کی مذمت نہیں کی،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان کی قربانی دینے والے سیکیورٹی فورسز کے گھر لواحقین سے تعزیت کرنے نہیں گئے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے دل میں دہشت گردوں کے لئے کتنا نرم گوشہ ہے،یہ اپنے علاقے میں جس وقت چاہیں جا سکتے ہیں لیکن دوسرے لوگ اپنے پیاروں کے جنازے پر نہیں جاسکتے۔امیر مقام نے کہا کہ صوبائی اسمبلی سے قرادادمنظوری کا کریڈٹ لینے والوں نےاس قرارداد میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بند کا بھی کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو مضبوط کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے تاہم اس کے حوالے سے ایک متنازعہ ترمیم کی گئی۔یہ بتائیں کہ اس ترمیم کی ضرورت کیونکر پیش آئی،یہ پولیس کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہے۔امیر مقام نے کہا کہ ان کا پرامن احتجاج اور مارچ اس سے پہلے 9 مئی کو اور اسلام آباد پر چڑھائی کے دوران عوام جان چکے،یہ بتائیں اب اس لانگ مارچ کا مشن کیا ہے،کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ انہیں بخوبی علم ہے کہ انہیں اسلام آباد یا پنجاب کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کے پی پاکستان کا حصہ ہے اور پانچ کروڑ عوام کو مشکل میں نہ ڈالا جائے،انکا کیا قصور ہے،کے پی کے عوام کا تحفظ اور دہشت گردی سے ان کو نجات دلانا ہماری ذمہ داری ہے،اس کے لئے وفاق اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ سمیت پی ٹی آئی کے مرکزی رہنمائوں پر کوئی دہشت گرد حملہ نہیں ہوا،ایک گولی عمران خان پر چلی جو عجیب مخمصہ تھا،ہم سب اس کا شکار ہوئے،کے پی حکومت اور پی ٹی آئی عوامی ایشوز پر بات کرے ہم اس کے ساتھ ہیں،ہم نے پاٹا اور فاٹا کا معاملہ ایوان اور کابینہ سمیت ہر جگہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کی سیاست سے متاثر کے پی کے عوام ہورہے ہیں،عوام اس کی چالوں میں نہ آئیں، احتجاج سے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورٹ کے احکامات کے باوجود صوبائی حکومت کے وسائل استعمال ہورہے ہیں،سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال ہورہا ہے۔