سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نظرثانی درخواست گزار کو یہ بتانا ہوگا کہ عدالتی فیصلے میں کیا غلطی ہوئی ہے جس کی بنیاد پر نظرثانی کی جائے۔ عدالت نے سانحہ بلدیہ ٹائون کراچی کیس میں ملزمان عبدالرحمان بھولا اور محمد زبیر چریا کی بریت کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران ریاست کی جانب سے دو ہفتے کا التواء مانگنے پر سرکاری وکیل کی سرزنش بھی کی۔جسٹس …
نظرثانی درخواست میں فیصلے کی غلطی کی نشاندہی ضروری ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نظرثانی درخواست گزار کو یہ بتانا ہوگا کہ عدالتی فیصلے میں کیا غلطی ہوئی ہے جس کی بنیاد پر نظرثانی کی جائے۔ عدالت نے سانحہ بلدیہ ٹائون کراچی کیس میں ملزمان عبدالرحمان بھولا اور محمد زبیر چریا کی بریت کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران ریاست کی جانب سے دو ہفتے کا التواء مانگنے پر سرکاری وکیل کی سرزنش بھی کی۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے بتانا ہے کہ فیصلے میں کیا غلطی ہے جس پر نظرثانی کی جائے؟
سرکاری وکیل کی جانب سے دو ہفتے کا وقت مانگنے پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کو مذاق نہ بنائیں، پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو التواء کی درخواست خود بھجوانی چاہیے تھی۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟ التواء کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، ہو سکتا ہے ہم خود پڑھ کر فیصلہ کر دیں۔ عام درخواست گزار اور ریاست کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوگا، صبح آنا ہے تو بتائیں، ورنہ چیمبر میں پڑھ کر فیصلہ کر دیں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ کوئی دلیل نہیں کہ فائل نہیں ملی، ای میل اور واٹس ایپ پر فائلیں چلی جاتی ہیں، آپ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔جسٹس عقیل احمد عباسی نے بھی اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی درخواست دائر کیسے کی اور پھر دو ہفتے کا وقت مانگ رہے ہیں؟ ریاست کی طرف سے کوئی بھی کیس چلا سکتا ہے، یہ کوئی مفسر کا کورس تو نہیں۔سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل کی دو ہفتے التواء کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔عدالت نے واضح کیا کہ پراسیکیوٹر جنرل یا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل میں سے جو بھی پیش ہونا چاہتا ہے پیش ہو، مزید التواء نہیں ملے گا۔








