حکومت نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت 220.721 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری دی جبکہ مجموعی پی ایس ڈی پی کا حجم ایک کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی …
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پی ایس ڈی پی کے تحت 220.721 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):حکومت نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت 220.721 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری دی جبکہ مجموعی پی ایس ڈی پی کا حجم ایک کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں وفاقی وزارتوں کے لیے682.485 ارب روپے، کارپوریشنز کے لیے 312.515 ارب روپے، منصوبوں کے واجبات کے لیے 4 ارب روپے جبکہ سی پیک 2.0 کے تحت نئی شروعات کے لیے ایک ارب روپےمختص کیے گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ایک ٹریلین روپے کی مجموعی مختص رقم میں سے پہلی سہ ماہی کے دوران 220.721 ارب روپے جاری کئے گئے جبکہ 61.320 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں وزارت آبی وسائل کے لیے سب سے زیادہ 86.517 ارب روپے جاری کئے گئے جس کے بعد کابینہ ڈویژن کے لیے 30 ارب روپے اور صوبوں و خصوصی علاقوں کے لیے 22.150 ارب روپے کی منظوری شامل ہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں سے7.162 ارب روپے جاری کئے گئے جبکہ 2.741 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے36.312 ارب روپےمختص کیے گئے جن میں سے 9.078 ارب روپے جاری کئے گئے اور 6.033 ارب روپے خرچ ہوئے۔
وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات ڈویژن کے لیے 22.626 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں سے2.785 ارب روپے جاری کئے گئے اور 1.561 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ریلوے ڈویژن کے لیے 40.658 ارب روپےمختص کیے گئے جن میں سے5.005 ارب روپے جاری کئے گئے جبکہ 2.347 ارب روپے خرچ ہوئے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کے لیے 19.580 ارب روپےمختص کیے گئے جن میں 9.801 ارب روپے غیر ملکی معاونت شامل ہے۔
اس میں سے 2.410 ارب روپے جاری کئے گئے اور 418.34 ملین روپے خرچ کیے گئے۔وزارت داخلہ کے لیے 21.825 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں سے 3.274 ارب روپے جاری کئے گئے اور 345.98 ملین روپے خرچ ہوئے۔قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ ڈویژن کے لیے 16.065 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں سے 9.639 ارب روپے جاری کئے گئے اور 644.85 ملین روپے خرچ ہوئے۔ ہائوسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لیے16.395 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں سے 787.14 ملین روپے جاری کئے گئے 322.33 ملین روپے خرچ کیے گئے۔دیگر اہم مختص رقوم میں دفاع ڈویژن کے لیے 10.903 ارب روپے، ریونیو ڈویژن کے لیے 11.570 ارب روپے، صنعت و پیداوار ڈویژن کے لیے 6.658 ارب روپے، قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن کے لیے 4.183 ارب روپے، سائنس و تکنیکی تحقیق ڈویژن کے لیے 3.567 ارب روپے، اطلاعات و نشریات ڈویژن کے لیے 3.019 ارب روپے، موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈویژن کے لیے 2.478 ارب روپے، قانون و انصاف ڈویژن کے لیے 2.403 ارب روپے اور بحری امور ڈویژن کے لیے 1.780 ارب روپے شامل ہیں۔
کارپوریشنز میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے لیے 224.515 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں59.250 ارب روپے غیر ملکی معاونت شامل ہے۔ این ایچ اے کے لیے پہلی سہ ماہی میں 22.384 ارب روپے منظور جبکہ 9.295 ارب روپے خرچ کیے گئے۔پاور ڈویژن کے اداروں این ٹی ڈی سی/پیپکو کے لیے88 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں76.608 ارب روپے غیر ملکی معاونت شامل ہے۔ ان اداروں کے لیے 10.832 ارب روپے منظور اور 8.171 ارب روپے خرچ کیے گئے۔حکومت نے منصوبوں کے واجبات کے لیے 4 ارب روپے جبکہ سی پیک 2.0 کے تحت نئی شروعات کے لیے ایک ارب روپے بھی مختص کیے ہیں۔








