انتظامی سہولت قانون کا متبادل نہیں،سپریم کورٹ، ای ایس ٹی (فزیکل ایجوکیشن) کی اے ای او عہدے پر ترقی بحال
انتظامی سہولت قانون کا متبادل نہیں،سپریم کورٹ، ای ایس ٹی (فزیکل ایجوکیشن) کی اے ای او عہدے پر ترقی بحال

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے 2014ء کے سروس رولز میں ایلیمنٹری سکول ٹیچر (فزیکل ایجوکیشن) سے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر (فزیکل ایجوکیشن) کے عہدے پر ترقی کی واضح گنجائش موجود ہے، انتظامی سہولت کو قانون کا متبادل بنا کر کسی ملازم کو جائز ترقی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد شفیق کی سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کر لیا اور پنجاب سروس ٹربیونل کا 12 مارچ 2025ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے 24 مئی 2023ء کو محمد شفیق کی ترقی واپس لینے کا محکمہ تعلیم کا حکم بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں ترقی واپس لیے جانے کی تاریخ سے تمام بیک بینیفٹس کا حقدار قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2014ء کے قواعد کے تحت ایلیمنٹری سکول ٹیچر (فزیکل ایجوکیشن) کو مطلوبہ اہلیت کی صورت میں اے ای او (فزیکل ایجوکیشن) کے عہدے پر ترقی دی جا سکتی ہے جبکہ ترقی کا معیار سینیارٹی کم فٹنس کی بنیاد پر تمام کیڈرز کے ایلیمنٹری سکول ٹیچرز مقرر کیا گیا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قواعد میں اے ای او کی آسامی سیکنڈری سکول ٹیچرز میں سے تبادلے کے ذریعے پر کرنے سے متعلق نوٹ، ای ایس ٹی (فزیکل ایجوکیشن) کی ترقی پر پابندی نہیں ہے۔ سیکنڈری سکول ٹیچر اور اے ای او دونوں گریڈ 16 کے عہدے ہیں، اس لیے ان کے درمیان منتقلی ترقی نہیں بلکہ انتظامی ضرورت کے تحت تبادلہ ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ محکمہ تعلیم نے 2014ء کے قواعد کو درست طور پر سمجھنے کے بجائے وضاحتی نوٹ کی بنیاد پر محمد شفیق کی ترقی واپس لی حالانکہ وہ 1995ء سے محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دے رہے تھے اور سینئر ترین ای ایس ٹی (فزیکل ایجوکیشن) ہونے کی بنیاد پر ترقی کے لیے اہل قرار پائے تھے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اچھی حکمرانی کے لیے پالیسی سازی، قواعد بنانے اور ان پر عملدرآمد میں وضاحت ضروری ہے، حکومت سب سے بڑے عوامی آجر کی حیثیت سے مثالی آجر کے طور پر کام کرے۔عدالت نے کہا کہ تنخواہ، سینیارٹی، ترقی اور ریٹائرمنٹ سے متعلق معاملات محض انتظامی مشکلات نہیں بلکہ سرکاری ملازم کے ملازمتی دور میں اس کے تحفظ، ترقی اور وقار سے متعلق بنیادی امور ہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قواعد میں ابہام کسی ملازم کو اس کے جائز حق سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا جبکہ بار بار پیدا ہونے والی مشکلات کی صورت میں ملازم کو دیا گیا فائدہ واپس لینے کے بجائے قواعد میں موجود خامیوں کو درست کیا جانا چاہیے۔عدالت نے سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا، پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور محمد شفیق کی ترقی بحال کرتے ہوئے انہیں ترقی واپس لیے جانے کی تاریخ سے تمام مالی مراعات دینے کا حکم دیا۔








