وفاقی حکومت نے ملک میں علاج معالجے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شفافیت کے فروغ کے لئے ’’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘‘ منصوبے کو فوری فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس نئے نظام کے تحت ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا مستقل اور منفرد میڈیکل ریکارڈ نمبر تصور ہوگا۔یہ اہم فیصلہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ …
حکومت کا ہیلتھ کیئر سیکٹر میں انقلابی اقدام: ’’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘‘ منصوبہ جلد فعال کرنے کا فیصلہ، شناختی کارڈ نمبر ہی مریض کا میڈیکل ریکارڈ نمبر ہوگا

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی حکومت نے ملک میں علاج معالجے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شفافیت کے فروغ کے لئے ’’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘‘ منصوبے کو فوری فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس نئے نظام کے تحت ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا مستقل اور منفرد میڈیکل ریکارڈ نمبر تصور ہوگا۔یہ اہم فیصلہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں منصوبے پر اب تک ہونے والی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ’’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘‘ سسٹم کو تیزی سے روبہ عمل لانے کے لئے وزارت آئی ٹی اور وزارت صحت کے درمیان باہمی اشتراک اور مشترکہ لائحہ عمل طے پا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ مریض کا تمام تر طبی ریکارڈ مختلف ہسپتالوں میں الگ الگ فائلوں میں بکھرے رہنے کے بجائے اب براہِ راست اس کے ایک ہی شناختی نمبر کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر منسلک کر دیا جائے گا۔ اس جدید سسٹم کی بدولت کسی بھی ہسپتال منتقلی یا ایمرجنسی کی صورت میں معالجین کو مریض کی سابقہ طبی ہسٹری، تشخیص، ادویات اور ٹیسٹ رپورٹس فوری اور باآسانی دستیاب ہو سکیں گی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی اور شعبہ صحت کا یہ امتزاج علاج معالجے کے نظام کو شفاف، محفوظ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے منصوبے کے بروقت نفاذ کے لئے ٹھوس عملی اقدامات اور جامع قواعد و ضوابط (ٹی او آرز) مرتب کرنے پر زور دیا۔اجلاس میں منصوبے کے تکنیکی معیار، کارکردگی اور ڈیٹا کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے سسٹم کا آزاد تھرڈ پارٹی ریویو کرانے کا باضابطہ فیصلہ کیا گیا۔
مزید برآں سسٹم کے تکنیکی پہلوؤں کو سمجھنے، اس کی پائیدار نگرانی اور اسے احسن طریقے سے چلانے کے لئے وزارت صحت میں ایک خصوصی آئی ٹی ونگ کو فعال کرنے پر بھی مکمل اتفاق کیا گیا۔دونوں وفاقی وزراء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے اس اہم ترین منصوبے کو تمام متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک اور متفقہ طریقہ کار کے تحت بلاتاخیر حتمی شکل دے کر نافذ العمل کیا جائے گا۔








