وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے امور پر جائزہ اجلاس ، قومی شاہراہوں موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کے حوالے سے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے امور پر جائزہ اجلاس ، قومی شاہراہوں موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کے حوالے سے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نےنیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تمام جاری منصوبوں کو تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانےاور قومی شاہراہوں، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کی تعمیر کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کرنے کے حوالےسے حکمت عملی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک کے دور دراز علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں سے جوڑنے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے امور پر ایک جائزہ اجلاس وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں قومی شاہراہوں موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کے حوالے سے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آمد و رفت کے ذرائع میں بہتری کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے دور دراز علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں سے جوڑنے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ ان علاقوں کی عوام کو بہترین سفری سہولیات فراہم جا سکیں اور یہاں کاروبار اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو سکیں۔ وزیراعظم نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تمام جاری منصوبوں کو تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ قومی شاہراہوں، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کی تعمیر کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کرنے کے حوالےسے حکمت عملی بنانے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پچھلے مالی سال میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا 109 بلین روپے سے بڑھ کر ریونیو 130 بلین روپے ہو گیا اور اس مالی سال یہ ریونیو 160 بلین روپے ہونے کی توقع ہے۔

این ایچ اے کی کئی منصوبوں کی فنڈنگ این ایچ اے خود اپنے ریونیو سے کر رہا ہے، ان منصوبوں میں سیالکوٹ -کھاریاں موٹر وے ایم 12, کھاریاں- راولپنڈی موٹر وے ایم 13، پشاور ناردرن بائی پاس، جگلوٹ-سکردو روڈ (ایس 1) کی تعمیر نو, پنڈی بھٹیاں – فیصل آباد موٹر وے (ایم-4) کی اپ گریڈیشن،این فائیو ملتان -لودھراں اپ گریڈیشن ، لیہ-تونسہ پل کی اپروچ روڈز کی تعمیر کے منصوبے نمایاں ہیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان ایکسپریس وے (این-25) پر کام تیزی سے جاری ہے۔اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ اس وقت سولہ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور جلد ہی افتتاح کے لئے بالکل تیار ہوں گے۔ ان منصوبوں میں جی ٹی روڈ (این -5) ٹی چوک اسلام آباد سے بانٹھ کی اپ گریڈیشن،جی ٹی روڈ (این -5) اسلام آباد چونگی نمبر 26 انٹر چینج کی ری ماڈلنگ ، مرگلہ ایونیو ایکسٹینشن (جی ٹی روڈ (این-5) تا موٹر وے ایم ون)، پنڈی بھٹیاں -فیصل آباد (ایم 4) کی اپ گریڈیشن، کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس، پنڈی گھیب -جنڈ روڈ، ملتان-سکھر موٹر وے( ایم- 5) پر بھونگ انٹر چینج، نوکنڈی -ماشخیل روڈ کی تعمیر، اولڈ بنوں روڈ کو دو رویہ کرنے، انڈس ہائی وے (این-55) سان -سیہون سیکشن اور اسی شاہراہ کا رتوڈیرو -شکار پور سیکشن کو دو رویہ کرنے، انڈس ہائی وے (این-55) پٹارو -سیہون سیکشن پر ایڈیشنل کیرج وے کے منصوبے شامل ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کئی منصوبوں کو جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا جن میں کھاریاں-راولپنڈی موٹر وے (ایم -13)، سکھر-حیدراباد موٹر وے (ایم- 6)، جی ٹی روڈ (این- 5) نوشہرہ-پشاور کی بحالی ، جی ٹی روڈ (این- 5) راولپنڈی -حسن ابدال کی تعمیر نو ، قومی شاہراہ (این-5) مورو-ہالہ کی بحالی کے، قومی شاہراہ (این-5) رانی پور تا روہڑی کی تعمیر نو کے منصوبے شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیالکوٹ -کھاریاں موٹر وے (ایم -12) اور کھاریاں-راولپنڈی موٹر وے (ایم -13) پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کی جا رہی ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سکھ مذہب کے مقدس مقامات کو آپس میں جوڑنے کے حوالےسے گورو نانک ایکسپریس وے کا منصوبہ زیر غور جو کہ کرتار پور اور ننکانہ صاحب کو آپس میں ملائے گا۔ مزید برآں مانسہرہ سے چلاس براستہ ناران ایکسپریس وے کا منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے جس کی بدولت مانسہرہ اور چلاس کے درمیان فاصلہ 146 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز عبد العلیم خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔