پاکستان کی برآمدی ترقی کیلئے مضبوط قومی برانڈنگ ناگزیر ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی طویل مدتی معاشی خود مختاری کا انحصار کم قدر والی اجناس کی برآمدات سے اعلیٰ قدر اور منفرد مصنوعات کی برآمد کی جانب منتقلی پر ہے جس کیلئے مضبوط قومی اور تجارتی برانڈنگ ناگزیر ہے۔وہ منگل کو اسلام آباد میں وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے فلیگ شپ اقدام نیشنل سینٹر فار …

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی طویل مدتی معاشی خود مختاری کا انحصار کم قدر والی اجناس کی برآمدات سے اعلیٰ قدر اور منفرد مصنوعات کی برآمد کی جانب منتقلی پر ہے جس کیلئے مضبوط قومی اور تجارتی برانڈنگ ناگزیر ہے۔وہ منگل کو اسلام آباد میں وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے فلیگ شپ اقدام نیشنل سینٹر فار برانڈ ڈویلپمنٹ (این سی بی ڈی) کے زیر اہتمام ’’نیشنل برانڈنگ، پاکستان کی بڑھتی ہوئی سافٹ پاور اور برانڈ کی بنیاد پر برآمدات‘‘ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی سٹیک ہولڈرز راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان اور خطے کی دیگر معیشتوں کے درمیان برآمدی فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی برآمدات 1990 سے تقریباً 40 ارب ڈالر کے گرد رہی ہیں جبکہ ویتنام کی برآمدات بڑھ کر تقریباً 475 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اعلیٰ معیار کی عالمی سطح کی مصنوعات تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جن میں اعلیٰ معیار کی ٹیکسٹائل مصنوعات، جراحی کے آلات، کھیلوں کا سامان اور فیفا ورلڈ کپ کی فٹ بالز بھی شامل ہیں تاہم اکثر پاکستانی مصنوعات غیر ملکی برانڈز کے تحت فروخت ہونے کے باعث ان کی حقیقی قدر کا بڑا حصہ ملک کو حاصل نہیں ہو پاتا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو عالمی برانڈز کیلئے صرف مصنوعات تیار کرنے والے ملک تک محدود رہنے کے بجائے اپنے ایسے بین الاقوامی برانڈز تیار کرنا ہوں گے جو عالمی منڈیوں میں پاکستانی شناخت کے ساتھ پہچانے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری صنعت عالمی معیار کی مصنوعات تیار کرتی ہے، اب ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ عالمی منڈیوں میں ان مصنوعات پر پاکستان کا نام اور شناخت نمایاں ہو۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل سینٹر فار برانڈ ڈویلپمنٹ مقامی صنعتوں کو ملکی منڈی سے براہ راست عالمی برآمدات کی جانب منتقلی میں معاونت فراہم کرے گا اور ایک مضبوط اور متحد ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ شناخت کے قیام میں کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی برانڈ حکمت عملی میں ملک کی پیداواری صلاحیت، کھیلوں، ثقافت، فنون اور سافٹ پاور کے دیگر ذرائع کو یکجا کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص اور مسابقت کو مضبوط بنایا جائے گا۔احسن اقبال نے کہا کہ قومی برانڈنگ کی حکمت عملی ’’نیشن برانڈ لینز‘‘ کے تحت سات بنیادی ستونوں پر استوار ہوگی، جن میں ثقافت، برآمدات، گورننس، سفارتکاری و دفاع، تفریح، سیاحت اور کھیل شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ باہم مربوط شعبے پاکستان کی عالمی شناخت، اثر و رسوخ اور سافٹ پاور کے اہم ذرائع ہیں اور ایک متحد و مسابقتی پاکستانی برانڈ کی بنیاد فراہم کریں گے۔راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں ماہرین اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے پاکستان کی جامع قومی برانڈنگ مہم، ملکی برانڈ کی کہانی اور عالمی نعرے کی تشکیل کیلئے تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے پاکستانی مصنوعات اور خدمات پر عوامی اعتماد اور ترجیح کو فروغ دینے، برآمدی سوچ پروان چڑھانے اور عالمی سطح پر پاکستانی برانڈز کی ترقی کیلئے مضبوط بنیاد قائم کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا۔کانفرنس میں پاکستان کے کنٹری برانڈ فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ برانڈ کی پیمائش، قومی برانڈ پالیسی اور عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو مؤثر انداز میں بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات پر ماہرین کی آرا حاصل کی گئیں۔

مباحثے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان کی مصنوعات، عوام اور مقامات کو ایک متحد اور قابلِ اعتماد ملکی برانڈ کے ذریعے عالمی سطح پر متعارف کرانے کیلئے مربوط قومی کوششوں کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل سینٹر فار برانڈ ڈویلپمنٹ کا قیام پاکستان کی قومی برانڈنگ کی کوششوں میں ایک دیرینہ ادارہ جاتی خلا کو پُر کرتا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے تحت قائم یہ مرکز پاکستان کی عالمی برانڈ ایکویٹی کے فروغ کیلئے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا اور ’’اڑان پاکستان‘‘ کے بالخصوص برآمدات اور مساوات کے ستونوں کے اہداف سے براہ راست ہم آہنگ ہے۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مضبوط قومی برانڈ پاکستان کی عالمی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ، برآمدی استعداد کو مضبوط، عالمی سطح پر تسلیم شدہ کاروباری اداروں کی پرورش اور پائیدار معاشی ترقی و معاشی استحکام میں معاون ثابت ہوگا۔