ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ ڈاکٹر محمدکلیم کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں انسدادِ ڈینگی اقدامات، بین الادارہ جاتی رابطہ، موجودہ موسمی صورتحال اور ہنگامی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
قصور،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا جائزہ اجلاس
قصور۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ ڈاکٹر محمدکلیم کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں انسدادِ ڈینگی اقدامات، بین الادارہ جاتی رابطہ، موجودہ موسمی صورتحال اور ہنگامی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ، ڈی آئی او قصور نادر علی، پولیس، واسا، سول ڈیفنس آفیسر میڈم فریحہ جعفر ، ریسکیو 1122، ایری گیشن، ماحولیات ، بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ، ہائی ویز، واپڈا، لوکل گورنمنٹ، محکمہ سکول ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن، پنجاب فوڈ اتھارٹی، محکمہ جنگلات، لائیوسٹاک اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے ضلع بھر میں جاری انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں، سرویلنس، لاروا تلفی، ہاٹ سپاٹس کی مانیٹرنگ، ان ڈور و آؤٹ ڈور نگرانی اور محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر محمد کلیم نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کے دوران ڈینگی لاروا کی افزائش کے امکانات میں اضافے کے پیش نظر انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں میں کسی قسم کی سستی، غفلت یا کوتاہی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ تمام متعلقہ محکمے محض کاغذی کارروائی کے بجائے فیلڈ میں عملی اقدامات یقینی بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر اپنی سرگرمیوں کی موثر مانیٹرنگ کریں۔انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع بھر میں پانی جمع ہونے والے ہر مقام کی فوری نشاندہی اور نکاسی یقینی بنائی جائے۔ ڈینگی ہاٹ سپاٹس، قبرستانوں، پارکوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، خالی پلاٹس، زیرِ تعمیر عمارتوں، ٹائر شاپس، کباڑ خانوں، پانی ذخیرہ کرنے والی جگہوں اور دیگر حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی جائے اور لاروا کی موجودگی کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ڈاکٹر محمد کلیم نے واضح کیا کہ انسدادِ ڈینگی کے حوالے سے کسی بھی محکمے کی ناقص کارکردگی یا غیر موثر فیلڈ مانیٹرنگ پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
تمام افسران اپنے متعلقہ علاقوں میں فیلڈ ٹیموں کی نگرانی خود کریں اور انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کروائیں۔









