پاکستان کا سلامتی کونسل سے حوثی حملے رکوانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے فوری رکوانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔

اقوام متحدہ ۔10اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے فوری رکوانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں سے علاقائی امن، عالمی توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی بحری تجارت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ریاض اور ابہا ایئرپورٹس سمیت اہم تنصیبات پر حملوں میں ایک پائلٹ سمیت کم از کم تین سعودی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ عالمی فضائی آپریشنز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس عزم کا حوالہ بھی دیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔پاکستانی مندوب نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری بندش، تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز اور باب المندب سمیت اہم بحری راستوں کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رہنی چاہیے کیونکہ حملوں سے ملاحوں کی زندگیاں، تجارت اور عالمی معیشت متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے پائیدار حل کے لیے سفارتی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں یمن کی قیادت میں جامع سیاسی عمل بحال کیا جائے۔عاصم افتخار احمد نے شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور اقوام متحدہ، انسانی ہمدردی کے اداروں اور سفارتی عملے کے زیر حراست ارکان کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی پر بھی زور دیا۔دریں اثنا، یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یمن ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف لوٹ آیا ہے اور متعدد محاذوں پر لڑائی پھیل چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تعز کے مغرب اور جنوب، لحج، مآرب، الجوف اور حجہ سمیت مختلف علاقوں میں جھڑپوں میں شدت آئی ہے، جبکہ یمنی حکومت نے باب المندب کے قریب بعض علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جوابی کارروائی بھی کی ہے۔ہانس گرنڈبرگ نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تشدد کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے منسلک تجارتی جہازوں کو حوثیوں کی دھمکیاں بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور عالمی توانائی منڈی کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوجی دباؤ سیاسی مذاکرات کا متبادل نہیں بن سکتا اور تنازع کے مستقل حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ خصوصی ایلچی کے مطابق حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے ایک زیر حراست اہلکار کی رہائی مثبت پیش رفت ہے، تاہم مزید 72 اہلکار اب بھی حراست میں ہیں، جن کی رہائی کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔