دہشت گردی پر خاموشی ملک دشمنی کے مترادف ، پاکستان کو دوبارہ تباہی کی جانب نہیں جانے دیں گے،سعودی عرب کے خلاف جارحیت برداشت نہیں ،وزیر اعظم محمد شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی پر خاموشی ملک دشمنی کے مترادف ہے،دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے

اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی پر خاموشی ملک دشمنی کے مترادف ہے،دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے، صوبائی حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ،خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے خاموش تماشائی بن گئی ہے،10 سال میں خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 800 ارب روپے دیے گئے لیکن پولیس، سی سی ڈی کی استعداد کار میں اضافے پر کوئی توجہ نہیں دی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن )کی قیادت نے معاملات بات چیت سے حل کرنے کو ترجیح دی،حکومتی ٹیم نے معاملہ فہمی کے لیے خلوص نیت سے کوشش کی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مذاکرات میں طے پانے والے مسودے سے پیچھے ہٹ گئے،دہشت گردی کے واقعات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کا ناپاک منصوبہ بنایا گیا ،ملک کو دوبارہ تباہی کی طرف نہیں لے جانے دیں گے، قانون اپنا راستہ اپنائے گا،افغانستان اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے،افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہرگز قبول نہیں،پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے، آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے،چیلنجز پر قابو پانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں،عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے،سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے شدید مذمت کرتے ہیں،سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ اور سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہے،حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کے لیے پوری مسلم امہ متحد ہے، سعودی عرب کے خلاف کسی جارحیت کو برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو یہاں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کے ارکان کو بتایا کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے امید ہے کہ اسی سال 1.2 ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی ، نیویارک میں آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے ملاقات میں پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور ٹیم ورک کو سراہا اور پاکستان کو ایک بدلا ہوا پاکستان قرار دیا،ہم سب نے مل کر سیاسی اور فوجی قیادت نے مل کے دن رات کام کیا ہے اور ملک میں مالیاتی نظم و نسق جس کی بڑے عرصے سے ضرورت تھی کے ساتھ ساتھ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں ، یہ ایک لمبا سفر ہے لیکن اگر دن رات محنت کریں گے تو اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے لندن سٹاک ایکسچینج کے دورے اور غیر ملکی کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا جنہوں نے پاکستان میں ہونے والی اقتصادی اصلاحات کو بھرپور انداز میں سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اگر اس طرح یہ سفر جاری رہا تو پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ملک بن جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری میں سفارتی کاوشوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس غیر ملکی شخصیت سے بھی میری ملاقات ہوئی ہے اس نے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا اہم کردار رہا ہے لیکن بدقسمتی سے مشرق وسطیٰ میں معاملات پھر خراب ہوئے ،ہرمز سے باب المندب میں حالات اور خراب ہو گئے، عالمی امن کے لیے ابھی بھی پاکستان اپنا کردار پوری محنت سے اور خلوص سے ادا کر رہا ہے، سفارتی کاوشوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بنیادی کردار ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور پوری ٹیم کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے بنائے گئے ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کیا اور اس کا نام دانش ٹیکنالوجی پارک رکھا گیا ہے، پچھلی حکومت کے زمانے میں اس کا آغاز کیا گیا ، کوریا کی حکومت نے اس کے لیے آسان شرائط پر قرضہ دیا لیکن اس کا جو حشر کیا گیا اغیار بھی اس طرح کا تصور نہیں کر سکتے اور یہ بربادی کی داستان بن گیا لیکن ہمارے وزرا اور افسران نے ایک ٹیم کی طرح کام کر کے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، الحمدللہ اب یہ مکمل ہو چکا ہے،اسی طرح کے منصوبے کراچی لاہور کوئٹہ پشاور اور دیگر شہروں میں بھی بنائیں گے جہاں ہزاروں نہیں لاکھوں، کروڑوں نوجوانوں کے لئے سٹارٹ اپس کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایز کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا،انکوپیشن سینٹرز بنیں گے اور جدت کو فروغ ملے گا اور غیر ملکی کمپنیاں آئیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب چین کی طرح پاکستان کا انتہائی برادر اور با اعتماد دوست ملک ہے ،مختلف اوقات میں سعودی شاہی خاندان اور سعودی حکومت اور عوام نے پاکستان کی ہمیشہ مدد کی،ایران بھی پاکستان کا برادر اور ہمسایہ ملک ہے،موجودہ حکومت کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں،ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ خطے میں امن قائم ہو، ہرمز کے بعد اب باب المندب میں جو خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے،سعودی عرب کےساتھ ہمارے 80 سال نہیں سینکڑوں سالوں پر محیط اخوت اور ایمان کے رشتے ہیں، دفاع کے حوالے سے ہمارا دو طرفہ اور سہ فریقی معاہدہ ہے،حوثی جو کچھ کر رہے ہیں ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا کوئی جواز نہیں، چند ہفتے پہلے مکہ مکرمہ کے اوپر ڈرون کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا،پوری امت مسلمہ حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کے لیے متحد ہے،پاکستان مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ہر طریقے سے اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے،سعودی عرب کے خلاف کسی جارحیت کو برداشت نہیں کریں گے، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کہ حرمت کی حفاظت پوری دنیا کے اربوں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے یہ ہماری ریڈ لائن ہے،پاکستان مکمل طور پر سعودی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر طریقے سے ان سے تعاون کرے گا۔ دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جو کچھ پچھلے دو ڈھائی سال میں ہو رہا ہے اور جس طریقے سے عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو کو دہشت گرد شہید کر رہے ہیں اور نشانہ بنا رہے ہیں یہ انتہائی تکلیف دہ واقعات ہیں،افواج پاکستان دہشت گردوں کا قلع قمع کر رہی ہیں اور انہیں چن چن کر جہنم رسید کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کو بار بار باور کرایا گیا ہے کہ ہم ہمسایہ ممالک ہیں اور ہم نے ہمسایہ رہنا ہےمگر ان کو یہ بات ابھی تک سمجھ نہیں آرہی اور وہ اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں،پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین کا استعمال قبول نہیں، ہر روز دہشت گردی کے بڑے اندوہناک واقعات ہوتے ہیں ،خیبر پختونخوا حکومت بجائے ان دہشت گردوں کو للکارنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے خاموش تماشائی بن گئی ہے،پولیس اور سی سی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کچھ نہیں کیا ،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں عام شہری، سیاستدان، ڈاکٹرز،انجینئرز ، دکاندار سبھی شہید ہوئے ہیں،انسداد دہشتگردی کے لیے 2010 سے 2026 تک خیبر پختونخوا حکومت کو 800 ارب روپے دیے جا چکے ہیںلیکن نہ تو پولیس اور سی سی ڈی کو مضبوط کیا گیا، نہ ان کی تربیت کی طرف توجہ دی گئی اور نہ ہی انٹیلیجنس کو بہتر بنایا گیا ،ٹانک ،ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر مقامات پر دہشت گردی کے آئے روز واقعات ہوتے ہیں،انسداد دہشت گردی وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے،دہشت گرد دوسروں کو تو نشانہ بناتے ہیں لیکن ان کے جلوس بحفاظت نکلتے ہیں اس کا کیا مطلب لیا جائے، دہشت گردی کی وجہ سے صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے اور پھر اب اسلام آباد کی چڑھائی کا انہوں نے ناپاک منصوبہ بنایا ہے،جب معیشت کے اشارئیے بہتر ہو رہے ہیں، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے ،مالیاتی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے،سٹیٹ بینک کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر ہیں،تیل کے بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ٹیم ورک کے طور پر نبرد آزما ہوئے ہیں،فیول سبسڈی سے کروڑوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں،بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو سفارتی کامیابیاں مل رہی ہیں تو یہ جتھے سے لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں اور ماضی کی بھیانک یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کو دوبارہ تباہی کے دہانے کی طرف لے جائیں، پاکستان کو دوبارہ تباہی کے دہانے پر لے جا کر پاکستان کے ساتھ یہ دشمنی کرنا چاہتے ہیں۔13 سال سے خیبر پختونخوا میں یہ حکومت کر رہے ہیں عوام کو انہوں نے کیا دیا ہے،میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ ملک دشمنی کی اور کوئی حرکت ہو نہیں سکتی،یہ چاہتے ہیں کہ مزدور کارخانے نہ جائیں، دکاندار دکانوں پہ نہ جا سکیں، بچے سکولوں میں نہ جا پائیں اور پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہ کرے اور ملک دوبارہ تباہی کی طرف چلا جائے، یہ پاکستان کو بالکل لاچار کرنا چاہتے ہیں یہ نہیں ہوگا ،قانون اپنا راستہ بنائے گا اور ہر صورت بنائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این نے بات چیت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، صدر مملکت آصف زرداری ، بلاول بھٹو،میاں محمد نواز شریف کی اجازت سے بات چیت ہوئی،امید بھی پیدا ہو گئی تھی کہ معاملہ طے پا جائے گا،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی وجہ سے اس کو بریکیں لگ گئیں اور بات آگے نہ بڑھ سکی، وہ طے پانے والے مسودے سے پیچھے ہٹ گئے،وہ چاہتے نہیں کہ ملک میں امن قائم ہو، وہ چاہتے نہیں کہ یہ ترقی کا سفر آگے بڑھے، وہ چاہتے نہیں کہ ہماری سفارتی کامیابی آگے بڑھے، وہ نہیں چاہتے کہ معاشی انقلاب آئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام (ف )کے امیر مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی حامی بھری،انہیں پھر بھی غیر رسمی طور پر کہا گیا کہ لانگ مارچ ختم کر دیں اب بھی ہم بات چیت کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں عام شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں لیکن خیبر پختونخوا کی حکومت اور وزیراعلیٰ کو توفیق نہیں ہوتی کہ ان واقعات کی مذمت ہی کر دیں،پانی اب سر سے گزر رہا ہے، ہمیں فیصلہ کرنا ہے، اب یا کبھی نہیں تاریخ ہمیں انہی فیصلوں سے یاد رکھے گی