جڑواں شہروں کے رہائشیوں کی الیکٹرک گاڑیوں کی جانب خاموش منتقلی

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ماحولیاتی خدشات کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دور میں جڑواں شہروں (اسلام آباد اور راولپنڈی) میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب ایک خاموش مگر تیز رفتار منتقلی دیکھی جا رہی ہے۔ شہری روایتی ایندھن سے چلنے والی ٹرانسپورٹ کے متبادل کے طور پر کم خرچ اور ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ الیکٹرک بائیکس اور سکوٹرز سے لے کر کاروں …

اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ماحولیاتی خدشات کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دور میں جڑواں شہروں (اسلام آباد اور راولپنڈی) میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب ایک خاموش مگر تیز رفتار منتقلی دیکھی جا رہی ہے۔ شہری روایتی ایندھن سے چلنے والی ٹرانسپورٹ کے متبادل کے طور پر کم خرچ اور ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ الیکٹرک بائیکس اور سکوٹرز سے لے کر کاروں اور رکشوں تک، اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر خاص طور پر طلباء، دفتر جانے والوں اور ڈیلیوری رائیڈرز میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس رجحان کی وجہ گاڑی چلانے کی کم لاگت، دیکھ بھال (مینٹیننس) کا کم خرچ اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر کے لیے حکومتی تعاون ہے۔ جڑواں شہروں میں فیول اسٹیشنز اور تجارتی علاقوں میں کئی چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔اسلام آباد کے رہائشی سہیل تنویر، جنہوں نے حال ہی میں الیکٹرک بائیک خریدی ہے، نے کہامیرا ماہانہ پیٹرول کا خرچ تقریباً 12,000 روپے تھا۔ اب بجلی سے چارجنگ کا خرچ 1,500 روپے سے بھی کم ہے۔ یہ بہت کفایت شعار والا سودا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسے چلانا آسان ہے، اس میں کوئی شور نہیں ہوتا اور پیٹرول پمپوں پر قطاروں میں کھڑے ہونے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔انہوں نے بتایا کہ طلباء کے لیے الیکٹرک سکوٹر بہترین ہے کیونکہ اس میں پیٹرول کی کوئی جھنجھٹ نہیں اور دیکھ بھال کا خرچ بھی بہت کم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اسے رات کے وقت گھر پر چارج کرتا ہوں اور سارا دن استعمال کرتا ہوں۔رائڈ ہیلنگ سروس سے وابستہ سلطان نے کہا کہ الیکٹرک گاڑی نے میری بچت کو دوگنا کر دیا ہے کیونکہ پہلے میں اپنی کمائی کا نصف حصہ پیٹرول پر خرچ کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بائیک کی بدولت میں زیادہ بچت کر رہے ہیں اور زیادہ کما رہا ہوں۔ ڈیلیوری رائیڈر کے طور پر الیکٹرک گاڑی نے میری زندگی بدل دی ہے کیونکہ ایندھن میرا سب سے بڑا خرچ تھا۔ اب میری بچت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ میں اسے صرف 3 گھنٹے چارج کرتا ہوں اور 100 کلومیٹر تک چلاتا ہوں۔راولپنڈی کی رہائشی اور کار مالکہ صبا احمد نے بتایا کہ میں نے ہموار اور ماحول دوست ڈرائیونگ کے لیے الیکٹرک کار کا انتخاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس میں نہ تو انجن کا شور ہوتا ہے اور نہ ہی دھواں اور یہ شہر میں ڈرائیونگ کے لیے انتہائی آرام دہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک خاتون ہونے کے ناطے الیکٹرک کار میرے بہت سہولت بخش ہے کیونکہ اس میں پیٹرول پمپ یا ورکشاپ جانے کی ضرورت نہیں پڑتی، بس اسے رات بھر گھر پر چارج کر لیں۔ یہ ہموار اور خودکارہے اور اسلام آباد کی ٹریفک میں اسے چلانا بہت آسان ہے۔انہوں نے کہا کہ شروع میں مجھے بیٹری اور دیکھ بھال (مینٹیننس) کی فکر تھی لیکن ایک سال گزرنے کے بعد دیکھ بھال پر آنے والا خرچ صفر ہے۔ نہ تیل تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی فلٹر کی۔

اس کی پک بہترین ہے اور انجن کا بالکل بھی شور نہیں ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو مشورہ دیا کہ عام آدمی کی الیکٹرک گاڑیوں تک رسائی آسان بنانے کے لیے چارجنگ اسٹیشنوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور آسان اقساط کے منصوبے متعارف کرائے جائیں۔

مزید خبریں