ای پی ایل میں مانچسٹر سٹی کی لیورپول کے خلاف شاندار فتح، مالیاتی الزامات کے سائے میں جشن ماند پڑ گیا

مانچسٹر سٹی نے انگلش پریمیئر لیگ کے اہم میچ میں لیورپول کو اینفیلڈ کے میدان میں 0-3 سے شکست دے کر ٹائٹل کی دوڑ میں اپنی برتری مزید مستحکم بنالی

لندن۔12اکتوبر (اے پی پی):مانچسٹر سٹی نے انگلش پریمیئر لیگ کے اہم میچ میں لیورپول کو اینفیلڈ کے میدان میں 0-3 سے شکست دے کر ٹائٹل کی دوڑ میں اپنی برتری مزید مستحکم بنالی۔بی بی سی کے مطابق اس فتح کے ساتھ ہی مانچسٹر سٹی نے تین قیمتی پوائنٹس حاصل کرلئے اور پوائنٹس ٹیبل پر 18 پوائنٹس کے ساتھ اپنی ٹاپ پوزیشن مزید بہتر بنالی ،تاہم کلب کے خلاف مالیاتی ضابطوں کی خلاف ورزیوں کے الزامات نے اس شاندار کامیابی کی اہمیت کو دھندلا دیا۔مانچسٹر سٹی نے لیورپول کے خلاف دباؤ سے بھرپور ماحول میں بہترین کھیل پیش کیا۔ ایرلنگ ہالینڈ، جیریمی ڈوکو اور ریان چرکی نے دوسرے ہاف میں گول کرکے ٹیم کی فتح یقینی بنائی۔ اس کامیابی کے بعد مانچسٹر سٹی کو لیگ میں اپنے حریفوں پر 3 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوگئی۔میچ سے قبل لیورپول کے شائقین نے مانچسٹر سٹی کے خلاف احتجاج کیا اور کلب پر مالیاتی بے ضابطگیوں کے الزامات کے حوالے سے بینرز بھی آویزاں کیے۔ لیورپول کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ماضی میں مانچسٹر سٹی کی مالی برتری نے ٹائٹل کی دوڑ پر اثر ڈالا۔مانچسٹر سٹی کو انگلش پریمیئر لیگ کے مالیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق 114 الزامات کا سامنا ہے۔ ان الزامات کا تعلق 2009-10 سے 2017-18 کے عرصے سے ہے۔ کلب فیصلے کے خلاف اپیل کر چکا ہے، جبکہ ممکنہ سزاؤں میں پوائنٹس کی بڑی کٹوتی اور لیگ سے تنزلی جیسے اقدامات بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔مانچسٹر سٹی کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ ٹیم کی توجہ صرف ان معاملات پر ہے جنہیں وہ اپنے اختیار میں سمجھتے ہیں، جن میں کھیل کی حکمت عملی، تربیت اور میچوں میں کامیابی شامل ہیں۔ ایرلنگ ہالینڈ نے بھی کہا کہ ٹیم نے ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کیا اور اجتماعی کوشش سے کامیابی حاصل کی۔سابق انگلش فٹ بالر سٹیفن وارنک کے مطابق، مانچسٹر سٹی کی انفرادی صلاحیتوں اور کھیل کے معیار کو سراہا جا سکتا ہے، تاہم مالیاتی الزامات کے باعث ٹیم کی کامیابیوں پر سوالات برقرار ہیں۔مانچسٹر سٹی کی فتح نے ٹائٹل کی دوڑ کو دلچسپ بنا دیا ہے، لیکن کلب کے خلاف کارروائی کے حتمی فیصلے تک لیگ کی موجودہ صورتِ حال غیر یقینی رہے گی۔ یہی غیر یقینی کیفیت اس سیزن کی کامیابیوں اور حتمی نتائج پر سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔

مزید خبریں