ایئرپورٹ پر مسافروں کو بلاوجہ آف لوڈ نہیں کیا جاتا،سفری دستاویزات نامکمل ہونے پر آف لوڈ کیا جاتا ہے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن

ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن معظم علی خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک سفر کرنے والے اصل مسافروں کو بلاوجہ آف لوڈ نہیں کیا جاتا، تاہم سفری دستاویزات نامکمل ہونے، ویزے کی میعاد ختم ہونے اور سفر کے مقصد سے متعلق ضروری شرائط پوری نہ ہونے سمیت مختلف وجوہات کی بنیاد پر مسافروں کو آف لوڈ کیا جا سکتا ہے

ملتان۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن معظم علی خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک سفر کرنے والے اصل مسافروں کو بلاوجہ آف لوڈ نہیں کیا جاتا، تاہم سفری دستاویزات نامکمل ہونے، ویزے کی میعاد ختم ہونے اور سفر کے مقصد سے متعلق ضروری شرائط پوری نہ ہونے سمیت مختلف وجوہات کی بنیاد پر مسافروں کو آف لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ مسافر بیرون ملک روانگی سے قبل اپنے تمام ضروری دستاویزات مکمل کریں تاکہ ایئرپورٹ پر کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن معظم نے کہا کہ امیگریشن کاؤنٹر پر مسافر کے سفری مقصد، پروفائل اور دستاویزات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

بعض افراد بیرون ملک سیاحت کے لیے روانہ ہوتے ہیں، لیکن ان کے پاس مطلوبہ دستاویزات مکمل نہیں ہوتیں۔ اسی طرح بعض مسافر کسی ملک سے ڈی پورٹ ہو چکے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ افراد عمرہ ویزے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے مسافروں کو آف لوڈ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امیگریشن حکام مختلف تکنیکی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے موقع پر دستاویزات کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ اگر کسی مسافر کے کاغذات میں کمی سامنے آئے تو اسے اس بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے اور ضروری دستاویزات مکمل کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ معظم علی کا کہنا تھا کہ ہر مسافر کے لیے بینک اکاؤنٹ ہونا لازمی نہیں، بلکہ اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے بیرون ملک جا رہا ہے اور اس کے پاس متعلقہ سفر کے لیے ضروری دستاویزات موجود ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آف لوڈنگ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ مسافر جس مقصد کے تحت بیرون ملک جا رہا ہے، اس کے مطابق تمام دستاویزات مکمل رکھے۔ پاسپورٹ کی میعاد درست ہونی چاہیے جبکہ ویزے اور دیگر سفری کاغذات کی بھی روانگی سے قبل تصدیق کر لینی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے پبلک فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں مسافر اپنے سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال اور ضروری رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے بعد سفر کرنے سے دستاویزات کی کمی کے باعث پیش آنے والی مشکلات سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ویزا فراڈ کے حوالے سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن نے مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ دھوکا دہی کرنے والے ایجنٹوں سے محتاط رہیں اور بیرون ملک ملازمت یا سفر کے لیے کسی ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں کو یہ ضرور معلوم کرنا چاہیے کہ متعلقہ ایجنٹ بیورو آف امیگریشن کے ساتھ رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کی ویب سائٹ اور فیسیلیٹیشن سینٹرز سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، جبکہ قابل اعتماد اور باخبر افراد سے مشورہ کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آف لوڈ کیے جانے والے مسافروں کی شکایات اور معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ریویو کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں ڈائریکٹر ملتان زون اور ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن شامل ہیں۔ آف لوڈ ہونے والا مسافر کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنی شکایت بیان کر سکتا ہے اور یہ وضاحت کر سکتا ہے کہ اسے کن وجوہات کی بنا پر سفر سے روکا گیا۔ اگر مسافر مطلوبہ دستاویزات مکمل کر لے تو وہ دوبارہ سفر کی اجازت کے لیے اپنا معاملہ پیش کر سکتا ہے۔

معظم علی کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے جائزے اور ہدایات کے بعد امیگریشن حکام دستاویزات کی دوبارہ جانچ پڑتال کرتے ہیں، جس کے بعد متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق مسافر کو بیرون ملک سفر کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن نے مزید کہا کہ بھیک مانگنے کی غرض سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے افراد پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے اور ایسے سفر کی روک تھام کے لیے سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔