سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک کا گلیشیئرز پر تحقیق، ماحول دوست ٹیکنالوجی میں جدت اور منصفانہ موسمیاتی مالی معاونت کے لیے عالمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور

نسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں منعقدہ پری-COP31 مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے تباہ کن اثرات سے کمزور اور متاثرہ آبادیوں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔مکالمے کا عنوان ’’پیرس سے انطالیہ تک: آرکٹک اور ہندوکش، قراقرم، ہمالیہ کے خطے کے درمیان روابط کا فروغ‘‘ تھا۔ڈاکٹر مصدق ملک …

اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے گلیشیئرز پر تحقیق، ماحول دوست ٹیکنالوجی میں جدت اور منصفانہ موسمیاتی مالی معاونت کے لیے عالمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں منعقدہ پری-COP31 مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے تباہ کن اثرات سے کمزور اور متاثرہ آبادیوں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔مکالمے کا عنوان ’’پیرس سے انطالیہ تک: آرکٹک اور ہندوکش، قراقرم، ہمالیہ کے خطے کے درمیان روابط کا فروغ‘‘ تھا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی مالی معاونت کا بڑا حصہ غیر متناسب طور پر زیادہ اخراج کرنے والی بڑی معیشتوں میں مرکوز ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی سائنسی تعاون کے لیے گرین ورچوئل یونیورسٹی قائم کرنے، ماحول دوست ٹیکنالوجی کے نئے کاروباری اداروں کے لیے مخصوص مالی معاونت فراہم کرنے اور سرکاری مالی وسائل سے ہونے والی تحقیق تک رسائی کے لیے گرین کلاؤڈ کے قیام کی تجاویز پیش کیں۔انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی تعاون کو فروغ دیں۔آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے استقبالیہ خطاب میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے پاکستان کی آبی، غذائی اور توانائی کی سلامتی کو لاحق خطرات اجاگر کیے۔ انہوں نے آرکٹک اور ہندوکش، قراقرم، ہمالیہ (ایچ کے ایچ) کے خطے کے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور برفانی خطوں سے متعلق خطرات کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔چیف ایگزیکٹو سی ایس سی سی سی عائشہ خان نے برفانی خطوں کے تحفظ کے لیے مضبوط عالمی فریم ورک کی حمایت کی جبکہ پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ژاں چارلس آلارد نے موسمیاتی تعاون اور سائنسی تحقیق کے لیے فرانس کے عزم کا اعادہ کیا۔ترکیہ کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن بیرک ایجے نے COP31 میں عملی اقدامات، موسمیاتی مالی معاونت اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کو مرکزی اہمیت دینے پر روشنی ڈالی۔

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (اقوام متحدہ) عمر صدیق نے موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے قابل رسائی مالی معاونت، موسمیاتی نقصانات کے ازالے اور سرحد پار معلومات کے تبادلے کی اہمیت اجاگر کی۔پینل مباحثے میں سی ایس سی سی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین سفیر شفقت کاکاخیل، نیپال کے سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن پرشوتم ڈھنگل، نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) کے چیف ایگزیکٹو امیر خان گورایہ، آئی سی آئی ایم او ڈی کے ڈاکٹر فیصل معین قمر اور ناروے کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر پاسکل ایمانوئل ایگلی نے شرکت کی۔مقررین نے علاقائی تعاون، گلیشیئرز کی نگرانی قدرتی آفات سے قبل بروقت انتباہی نظام، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مقامی آبادیوں میں موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اختتامی خطاب میں آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے قومی ترقیاتی منصوبہ بندی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو شامل کرنے، ملکی اداروں کو مضبوط بنانے اور سائنسی تحقیق کو عملی پالیسیوں میں ڈھالنے پر زور دیا۔یہ مکالمہ آئی ایس ایس آئی، سی ایس سی سی سی اور فرانسیسی سفارت خانے کے مشترکہ تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں COP31 سے قبل سفارت کاروں، پالیسی سازوں، محققین اور موسمیاتی ماہرین نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں