امریکا کے ساتھ معاہدے کے بعد روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کے بعد روس کی جانب سے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا گیا اور امریکا کو روسی ڈیزل کی ترسیل شروع ہو گئی ہے ۔ رشیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں صنعتی ذرائع کے حوالہ سے بتایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد روس نے …

ماسکو۔27اکتوبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کے بعد روس کی جانب سے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا گیا اور امریکا کو روسی ڈیزل کی ترسیل شروع ہو گئی ہے ۔ رشیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں صنعتی ذرائع کے حوالہ سے بتایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد روس نے ڈیزل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے وسط میں روسی حکومت کی جانب سے برآمدی کوٹے میں ردو بدل کے بعد یومیہ پیداوار اکتوبر کے اوائل کےایک لاکھ 60 ہزار ٹن سے بڑھ کرایک لاکھ 80 ہزارٹن ہو گئی ہے روس نے ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی ہے جس کے تحت روسی کمپنیاں اکتوبر میں بین الاقوامی منڈیوں میں5 لاکھ ٹن تک ایندھن بھیج سکتی ہیں ۔ اس سے قبل ڈیزل، بحری جہازوں کے ایندھن اور گیس آئل کی برآمدات پر 31 اکتوبر تک پابندی عائد تھی کیونکہ حکومت ملکی منڈی میں استحکام لانا چاہتی تھی،اس وقت فصلوں کی کٹائی کے موسم کی وجہ سے ملک میں ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا تھا۔ اب روس میں مقامی طلب کم ہو کر تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار ٹن یومیہ رہ جانے کی توقع ہے کیونکہ فصلوں کی کٹائی کا عمل بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔

تخمینوں کے مطابق اس سے روزانہ40 ہزار ٹن (یا ماہانہ 10 لاکھ ٹن سے زائد) ڈیزل برآمد کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کے پڑوسی ممالک کی جانب سے 2 لاکھ سے 3 لاکھ ٹن ڈیزل خریدے جانے کا امکان ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان 9 اکتوبر کو ہونے والی ایک ٹیلی فون گفتگو کے دوران امریکا کو روس کی طرف سے ڈیزل کی فراہمی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس گفتگو کے بعد امریکی صدر نے اعلان کیا کہ روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل امریکا کو فراہم کرے گا، جس کے بعد نومبر میں 5 لاکھ ٹن، پھر مزید 10 لاکھ ٹن اور ریفائننگ کی صلاحیت کے مطابق مزید کھیپیں بھیجی جائیں گی۔

اس کے بعد امریکا نے روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دیتے ہوئے پابندیوں میں عارضی چھوٹ دے دی جس سے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت (2022) میں روس پرعائد کردہ پابندیاں ختم ہو گئیں۔گزشتہ ہفتے روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے بتایا تھا کہ ان کا ملک اس معاہدے کے تحت پہلے ہی ڈیزل سے لدے تین ٹینکر امریکا روانہ کر چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ روس عالمی منڈیوں اور امریکا کو ڈیزل کی اضافی فراہمی یقینی بنائے گا تاکہ دنیا بھر میں ڈیزل کی قلت کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی اس وقت کہا تھا کہ امریکا کو ڈیزل کی ترسیل باقاعدگی سے جاری رہےگی۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان اس معاہدے نے امریکا اور یوکرین کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کےہم منصب وولودیمیر زیلنسکی پر بارہا زور دیا ہے کہ وہ روسی ریفائنریز پر حملے بند کریں۔ انہوں نےیوکرین پر الزام عائد کیاکہ وہ دنیا بھر میں ڈیزل کی قلت کو مزید سنگین بنا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی بلند قیمتوں سے متاثر ہونے والے امریکی صارفین اور کسانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

اس کے جواب میں یوکرینی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوئوں کو مکمل طور پر جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدردنیا کی توجہ ایران سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کا عمل شدید متاثر ہوا۔روس تاریخی طور پر امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ڈیزل برآمد کنندہ رہا ہے جس کا عالمی برآمدات میں تقریباً 10 فیصد حصہ ہے۔

مزید خبریں