چین میں پاکستان کے سفیر سید علی اسد گیلانی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم منصوبہ ہے
سی پیک گلوبل سائوتھ کے لئے تعاون کی کامیاب مثال ہے، چین میں پاکستانی سفیر سید علی اسد گیلانی کا شنہوا کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):چین میں پاکستان کے سفیر سید علی اسد گیلانی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم منصوبہ ہے جس نے گلوبل سائوتھ کے ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کی ایک مثال قائم کی ہے جبکہ اس منصوبہ سے پاکستان کے سماجی و اقتصادی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔چینی خبر رساں ادارے شنہوا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ رواں سال پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، اس عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف مزید مضبوط ہوئے ہیں بلکہ ان کے دائرہ کار اور گہرائی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کا تازہ ترین مظہر اور ایک وسیع البنیاد منصوبہ ہے جس نے پاکستان کے سماجی و اقتصادی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔سفیر سید علی اسد گیلانی نے بتایا کہ 2013ء میں سی پیک کے آغاز کے وقت پاکستان کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا تھا جس سے عوام کے روزگار، پیداواری صلاحیت اور برآمدات متاثر ہو رہی تھیں، سی پیک کے پہلے مرحلے میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں کی تکمیل کے بعد پاکستان میں توانائی کی مناسب دستیابی ممکن ہوئی جس سے کاروباری مواقع میں اضافہ اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری آئی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان کے قومی نظام میں 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی شامل ہوئی جبکہ صرف ایک منصوبے سے تقریباً 25 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں۔گوادر بندرگاہ کی مثال دیتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ گوادر کبھی ایک چھوٹی سی بستی تھا تاہم بندرگاہ کی ترقی کے نتیجے میں وہاں ہوائی اڈے، ہسپتال اور فنی تربیت کے پروگراموں کی سہولتیں فراہم ہوئیں جس سے مقامی آبادی کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان کو تبدیل کر رہا ہے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ روابط اور باہمی رابطہ کاری کے طریقوں میں بھی تبدیلی لا رہا ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور سراہا بھی جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین نے اس وقت عملی تعاون کی ترجیح سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی، سی پیک 2.0 کی تشکیل اور اسے ترقی، عوامی خوشحالی، جدت، ماحول دوست ترقی اور کھلے پن کی راہداری بنانے پر مرکوز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 کے ذریعے دونوں ممالک کے لیے ٹھوس اور باہمی طور پر فائدہ مند نتائج کا سلسلہ جاری رہے گا۔سید علی اسد گیلانی نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ساتھ روابط بڑھانے اور اپنی برآمدی منڈیوں میں تنوع لانے کے وژن پر عمل پیرا ہے جبکہ چین اور پاکستان اپنی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی پیدا کرکے مشترکہ طور پر ان اہداف کے حصول کے لیے کام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 پاکستان اور چین دونوں کے لیے وسیع امکانات رکھتا ہے اور دوطرفہ تعاون کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں چینی کاروباری شخصیات کی بڑھتی ہوئی دلچسپی خوش آئند ہے اور ان میں سے بہت سے سرمایہ کار ملک میں کاروباری مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدے کا منصوبہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ توجہ برقرار رکھتے ہوئے وسیع تر مقاصد کو پیش نظر رکھا جائے اور مستقل مزاجی سے آگے بڑھا جائے۔
ایک ماہ قبل بیجنگ میں سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے والے پاکستانی سفیر نے چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تقریباً دو دہائیاں قبل چین میں اپنے سفارتی کیریئر کا آغاز کیا تھا جہاں پاکستانی سفارت خانے میں سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں، اس دوران انہوں نے بس اور ٹرین کے ذریعے چین کے درجنوں شہروں کا سفر بھی کیا۔انہوں نے چین میں اپنے ابتدائی دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے گزشتہ برسوں کے دوران ملک میں آنے والی غیر معمولی تبدیلی اور ترقی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے حقیقی دوست ہونے کے ناطے پاکستان کے عوام، قیادت اور وہ ذاتی طور پر چین کی بڑھتی ہوئی خوشحالی، ترقی اور استحکام کو دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔سفیر سید علی اسد گیلانی نے کہا کہ پاکستان چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ چار عالمی اقدامات اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل پر مبنی عالمی برادری کے قیام کے وژن کی حمایت کرتا ہے کیونکہ پاکستان دنیا کے بارے میں چین کے نقطہ نظر کو سمجھتا ہے اور اس سے اتفاق کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی ترقی کے فروغ کے ذریعے استحکام برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور آج کی غیر یقینی صورتحال میں اس نوعیت کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسی طرز تعاون کے ذریعے ایسی خوشحال دنیا کا قیام ممکن ہے جس کے ثمرات صرف دونوں ممالک کے عوام تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے خطے اور بالآخر پوری انسانیت کو فائدہ پہنچائیں۔








