سرکاری ملازمین کی سنیارٹی تقرری کی تاریخ سے طے ہوگی، پبلک سروس کمیشن کی سفارش سے نہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس) افسران کی سنیارٹی پبلک سروس کمیشن کی سفارش کی تاریخ کے بجائے مسلسل باقاعدہ تقرری کی تاریخ سے طے ہوگی، محض کمیشن کی جانب سے پہلے سفارش کیے جانے سے سنیارٹی کا حق حاصل نہیں ہوتا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پی ایم …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس) افسران کی سنیارٹی پبلک سروس کمیشن کی سفارش کی تاریخ کے بجائے مسلسل باقاعدہ تقرری کی تاریخ سے طے ہوگی، محض کمیشن کی جانب سے پہلے سفارش کیے جانے سے سنیارٹی کا حق حاصل نہیں ہوتا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پی ایم ایس افسران کی سنیارٹی سے متعلق 31 درخواستوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا اور درخواستیں مسترد کر دیں۔

ہفتہ کو جاری تفصیلی تحریری فیصلہ میں عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سول سرونٹس (اپائنٹمنٹ، پروموشن اینڈ ٹرانسفر) رولز 1989 کے رول 17 (بی) کے تحت دیگر طریقوں سے بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کی سنیارٹی مسلسل باقاعدہ تقرری کی تاریخ سے متعین ہوگی، پبلک سروس کمیشن کی سفارش بذات خود تقرری نہیں ہے۔فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کو پبلک سروس کمیشن نے 28 مارچ 2022 کو پی ایم ایس افسران کے طور پر سفارش کیا تھا، تاہم ان کی تقرری کے نوٹیفکیشن 27 اپریل 2022 کو جاری ہوئے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ تقرری کے نوٹیفکیشن جان بوجھ کر تاخیر سے جاری کیے گئے تاکہ نجی فریقین کو سنیارٹی میں فائدہ پہنچایا جا سکے۔درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا تھا کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پرنسپل سیکرٹریٹ میں تعینات ایک افسر نے، جو وزیراعلیٰ کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (پی ایس او) کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا، ان کی تقرری کا عمل دانستہ تاخیر کا شکار کیاسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے سروس ٹربیونل میں عمومی طور پر بدنیتی اور سمری میں تاخیر کا الزام تو لگایا تھا تاہم پی ایس او کے خلاف مخصوص مداخلت یا تقرری میں تاخیر کا ذمہ دار ہونے کا الزام باقاعدہ طور پر عائد نہیں کیا تھا۔

سپریم کورٹ میں پہلی مرتبہ کسی مخصوص افسر کے خلاف نیا حقائق پر مبنی الزام پیش نہیں کیا جا سکتا، جس کے لیے باقاعدہ شواہد اور حقائق کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ پبلک سروس کمیشن نے 28 مارچ 2022 کو امیدواروں کی سفارشات ابتدائی طور پر کی تھیں، جو اسناد کی تصدیق، طبی اہلیت اور دیگر قانونی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط تھیں۔ کمیشن نے بعض دستاویزی نقائص 31 مارچ 2022 کو دور کیے، جس کے بعد تقرری کا عمل متعلقہ قانونی اور دفتری کارروائی سے گزرا اور 18 اپریل 2022 کو تقرری کے پیشکش نامے جاری کیے گئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اس دوران صوبائی سلیکشن بورڈ کا اجلاس 7 اپریل 2022 کو ہوا، جس کے بعد نجی فریقین کی ترقی کے نوٹیفکیشن 15 اپریل 2022 کو جاری کیے گئے۔

سروس ٹربیونل نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد تقرری کے عمل میں لگنے والے وقت کو معمول کی دفتری کارروائی اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کا نتیجہ قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ درخواست گزاروں کی تقرری میں بدنیتی کے تحت دانستہ رکاوٹ ڈالی گئی۔ اگر انتظامی مداخلت ثابت ہو جاتی تو اس تاخیر کے سنیارٹی پر اثرات کا جائزہ لیا جا سکتا تھا، تاہم موجودہ مقدمے میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ سروس ٹربیونل نے تمام متعلقہ قانونی اور حقائق پر مبنی پہلوؤں کا درست جائزہ لیا، اس لیے اس کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں۔

 

مزید خبریں