جرم کے وقت ملزم کی ذہنی صلاحیت مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، توہین مذہب کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص جرم کے ارتکاب کے وقت ذہنی بیماری کے باعث اپنے فعل کی نوعیت اور اس کے غلط یا غیر قانونی ہونے کو سمجھنے سے قاصر ہو تو اسے فوجداری طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، عدالت نے اس قانونی اصول کے تحت توہین مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے دو سگے بھائیوں کو بری کرتے ہوئے …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص جرم کے ارتکاب کے وقت ذہنی بیماری کے باعث اپنے فعل کی نوعیت اور اس کے غلط یا غیر قانونی ہونے کو سمجھنے سے قاصر ہو تو اسے فوجداری طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، عدالت نے اس قانونی اصول کے تحت توہین مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے دو سگے بھائیوں کو بری کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیا ق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عمر دراز اور لیاقت علی کی اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 17 ستمبر 2015ء اور ٹرائل کورٹ کا 27 مارچ 2009ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی جرم کی قانونی ذمہ داری کے لیے جسمانی فعل کے ساتھ مجرمانہ ذہن (مَنس ریا) کا ہونا بھی ضروری ہے۔ محض نفسیاتی بیماری کی تشخیص کافی نہیں بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ جرم کے وقت ملزم اپنے فعل کی نوعیت اور اس کے غلط یا غیر قانونی ہونے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا یا نہیں۔عدالت کے مطابق دونوں ملزمان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ ہر ایک کو پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی دی گئی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی تھی۔

سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کی ذہنی صحت سے متعلق طبی رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ 2007ء میں تین رکنی میڈیکل بورڈ نے انہیں ذہنی طور پر صحت مند قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے 31 اگست 2023ء کی رپورٹ میں دونوں کو بائی پولر افیکٹو ڈس آرڈر اور نفسیاتی علامات میں مبتلا قرار دیا۔18 ستمبر 2025ء کی نو رکنی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بھی دونوں بھائیوں کو بائی پولر ڈس آرڈر کی موجودہ مینک کیفیت میں مبتلا قرار دیا گیا۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق یہ دائمی بیماری ہے اور شدید کیفیت میں مریض اپنے اعمال کو سمجھنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ طبی ماہرین نے عدالت کو بتایا کہ بائی پولر ڈس آرڈر ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں علامات وقفے وقفے سے ظاہر ہوتی ہیں اور اگر کوئی شخص جرم کے وقت اس بیماری کی شدید مینک کیفیت میں مبتلا ہو تو وہ اپنے فعل کی نوعیت اور اس کے غلط ہونے کو سمجھنے سے مکمل طور پر قاصر ہو سکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ دونوں ملزمان کے سگے بھائی ہونے اور ایک ہی نوعیت کی ذہنی بیماری میں مبتلا پائے جانے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس بیماری میں موروثی عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔

میڈیکل بورڈز کی متفقہ آرا نے ان کی مجرمانہ ذمہ داری کے حوالے سے معقول شک پیدا کیا، جس کا فائدہ ملزمان کو دیا جانا ضروری ہے۔جسٹس شکیل احمد نے اپنے اضافی نوٹ میں واضح کیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 84 کے تحت ذہنی بیماری کی موجودگی بذات خود بریت کی بنیاد نہیں بنتی بلکہ یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ جرم کے وقت ملزم ذہنی عدم توازن کے باعث اپنے فعل کی نوعیت یا اس کے غلط اور غیر قانونی ہونے کو سمجھنے سے قاصر تھا۔انہوں نے قرار دیا کہ عدالت کو طبی رپورٹس کے ساتھ ملزم کی سابقہ ذہنی صحت، وقوعہ سے پہلے اور بعد کے رویے، علاج اور دیگر حالات کا مجموعی جائزہ لینا چاہیے۔ اگر شواہد سے ملزم کی قانونی ذہنی صلاحیت کے بارے میں معقول شک پیدا ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جا سکتا ہے۔

اضافی نوٹ میں اسلامی فقہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قانونی ذمہ داری کے لیے عقل، شعور اور اپنے اعمال کو سمجھنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اسلامی تعلیمات بھی انسان کی ذمہ داری کو اس کی ذہنی و قانونی اہلیت سے وابستہ کرتی ہیں۔سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو بری کرنے اور فوری رہا کرنے کا حکم دیا، تاہم ہدایت کی کہ اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کیا جائے اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ان کا ضروری طبی علاج جاری رکھنے کو یقینی بنائیں۔

مزید خبریں