عالمی اداروں کی افغانستان کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل

اقوام متحدہ ۔13جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسان دوست اداروں اور ان کی ساتھی تنظیموں نے اس سال ایک کروڑ 60 لاکھ افغانوں کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی امداد اپیل کی ہے۔افغانستان کے غیر محفوظ لوگوں کو کئی عشروں سے جاری جنگ، قدرتی آفات، اور کووڈ-19کے پیدا کردہ سماجی اور مالی مسائل نے آ گھیرا ہے اور اب انہیں زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔گزشتہ چار سالوں میں ایسے افراد کی تعداد میں 6 گنا اضافہ ہوا ہے جنہیں امداد کی ضرورت ہے۔خاص طور پر بچوں کے معاملے میں صورت حال پریشان کن ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک کے مطابق پانچ سال کی عمر کے ہر دو میں سے ایک افغان بچے کو خوراک کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع ختم ہونے سے ایسے لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جنہیں خوراک دستیاب نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس برس افغانستان کی نصف آبادی کو انسان دوستی کے تحت دی گئی امداد کی ضرورت ہو گی۔انسان دوستی کے تحت دی گئی امداد کے بندوبست میں تعاون کرنے والے ادارے او سی ایچ او کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک کروڑ 84 لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا سے اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔امدادی ادارے کی معاون اعلی پروتھی راماسوامی نے کہا ہےکہ یہ لوگ اگرچہ مشکلات جھیل لیتے ہیں، لیکن اس وقت وہ پریشان ہیں ۔ کئی لوگ زندہ رہنے کے لیے قرضے لیتےہیں جب کہ دوسرے اپنے بچوں کو محنت مزوری پر بھیجنے کے لیے مجبور ہیں اور کچھ لوگ اپنی نوجوان لڑکیوں کی جلد شادی کر دیتے ہیں۔ان حالات میں امداد نہ ملنے سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کو بہت گھمبیر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس سال حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کی وجوہات میں 2020 میں کورونا وائرس کے بحران پر توجہ اور فنڈز کی کمیابی شامل ہیں، لیکن پھر بھی سیاسی سطح پر بین الافغان مذاکرات کے آغاز نے امید کی کرن پیدا کی ہے،ایسے میں لوگ مصائب کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے تاکہ پر تشدد واقعات میں کمی آئے اور دشوار گزار علاقوں سمیت ملک کے تمام حصوں میں لوگوں کو امداد پہنچائی جا سکے۔