میانمار سے متعلق آسیان کے پانچ نکاتی متفقہ ایجنڈے پر فوری عملدرآمد کیا جائے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔2مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے زور دیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم، آسیان کے رہنماؤں نے میانمار کی صورتحال کے پرامن حل کے لیے جن پانچ نکات پر اتفاق کیا ہے ان پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

جاپانی نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتے انڈونیشیا میں آسیان کے سربراہی اجلاس کے بعد سلامتی کونسل کے آن لائن بند کمرہ اجلاس میں سلامتی کونسل کے شرکا کو اس بارے میں برونائی کے وزیر خارجہ اور میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی کرسٹین شرانر برگینر نے بریفنگ دی جو آسیان کے موجودہ چیئرمین بھی ہیں۔

اجلاس کے بعد آسیان رہنماؤں نے چیئرمین کا ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ میانمار کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوئے ہیں۔ اعلامیے میں آسیان کے اس مطالبے پر زور دیا گیا ہے کہ میانمار میں تشدد فوری طور پر روکا جائے۔ یہ مطالبہ مذکورہ پانچ نکاتی متفقہ ایجنڈے کا حصہ ہے، تعمیری مذاکرات کے ذریعے پرامن اور پائیدار حل کی جانب پہلے قدم کے طور پر پانچ نکاتی متفقہ ایجنڈے پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

اس بیان میں سلامتی کونسل کی امید جھلکتی ہے کہ آسیان کی کاوشیں، میانمار کی صورتحال کے حل میں معاون ثابت ہوں گی، تاہم کونسل، وہاں شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن رکوانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے ابھی تک قابل نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی نے میانمار کے فوجی سربراہ سینئر جنرل مِن آنگ ہلائن سے ملاقات بھی کی ۔