کورونا وباء کے تناظر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 31 واں خصوصی اجلاس(آج ) اختتام پزیر ہو گا، وباء کے اثرات اور اس سے بچاؤ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے سمیت معیشت کو پہنچنے والے نقصانات پر توجہ مرکوز

اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):کورونا وباء کے تناظر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اکتیس واں خصوصی ورچوئل اجلاس،جمعرات 3دسمبر کو نیویارک میں شروع ہوا جو (آج ) جمعہ کو اختتام پزیر ہو گا۔ دوروزہ خصوصی اجلاس کا مقصد کورونا وباء کے اثرات اور اس سے بچاؤ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے سمیت معیشت کو پہنچنے والے نقصانات پر توجہ مرکوز کرناہے۔اجلاس میں مختلف ملکوں کے سربراہاں شرکت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نےبھی اجلاس سے کلیدی خطاب کیا،جس میں انہوں نے کورونا کے بچاؤ سے متعلق حکومت پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا نہ صرف تفصیلی احاطہ کیا بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے دس نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا۔کورونا کی پہلی لہر کے دوران وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنائی گئی سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کی دنیا معترف ہے اور کئی ترقی یافتہ ممالک بھی پاکستان کی طرز پر معیشت کو اوپر لانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔پاکستان میں وباء کے باعث معاشی چیلنجز کا جس دلیرانہ انداز میں مقابلہ کیاگیا اسے دنیا بھر میں سراہاگیا۔ احساس پروگرام اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی سمیت تعمیراتی شعبے کی بحالی کے لئے غیرمعمولی اقدامات اس کی واضح مثالیں ہیں جس کا ذکر انہوں نے اپنے خطاب میں بھی کیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے پہلے روزمختلف سیشنز کے دوران سربراہان کی انفرادی سطح پر شرکت کے علاوہ پینل کی سطح پر بھی مباحثے ہوئےجن میں وباء کے تدارک ،مستقبل کے لائحہ عمل او رویکسین کی تیاری کے حوالے سے غور کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق کورونا کی وباء نہ صرف اقوام متحدہ کی 75 سالہ تاریخ میں صحت کا سب سے بڑا بحران ہے بلکہ سماجی ،معاشی ،سلامتی اور انسانی حقوق کے حوالے سے اسے سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیاجارہاہے جس نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں کو ہی بری طرح سے متاثر کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی تقریر میں کہا کہ1930کے بعد اس وقت وبا کی وجہ سے دنیا کو عظیم کساد بازاری کا سامنا ہے۔ترقی پذیر ملک معیشت کو سنبھالا دینے کے قابل نہیں ہیں اور دو سے تین ٹریلین ڈالر کا بھی بندوبست نہیں کر پا رہے۔اجلاس کے پہلے روز کے خطابات میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گٹریش اور کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈیونے ترقی پذیر ملکوں کے امداد پر بات کی ۔