پچیسویں آئینی ترمیم نے قبائلی اضلاع کی تقدیر بدل دی: معاون خصوصی کا مران بنگش

پشاور ۔13جنوری (اے پی پی):وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش نے ضلع خیبر میں صوبائی حکومت کی جانب سے منعقدہ قبائلی مشاورتی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ترقیاتی کاموں پر عوامی رائے جاننے اور عوام کی ترجیحات کو مقدم رکھتے ہوئے وزیراعلی محمود خان کی سربراہی میں قبائلی اضلاع میں مشاورتی جرگوں کا انعقاد کررہی ہے۔ ان مشاورتی جرگوں میں سالانہ ترقیاتی پروگرام سمیت تیز تر ترقیاتی پروگرام (اے آئی پی) کے تحت مجوزہ منصوبوں پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے اور عوامی رائے کو بھی اس میں شامل کیا جاتا ہے۔ جرگے کا انعقاد ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ میں کیا گیا تھا جس میں معاون خصوصی کامران بنگش کے علاوہ ایم پی اے شفیق آفریدی، ڈپٹی کمشنر خیبر محمود اسلم سمیت دیگر لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران سمیت قبائلی عمائدین، میڈیا نمائندگان اور نوجوانوں نے شرکت کی۔مشاورتی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کامران بنگش کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلی محمود خان نے قبائلی عوام کی شنوائی کیلئے بھیجا ہے جو کہ اس سے قبل پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے پچھلے دو سال میں ضلع خیبر کے چارجبکہ وزیراعلی محمود خان نے بارہ دورے کئے اور عوام کے درمیان گھل مل گئے۔ کابینہ ارکان و اسمبلی ممبران درجنوں بار قبائلی اضلاع میں عوام کی شنوائی کیلئے دورے کرچکے ہیں۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ تمام قبائلی مشران کی سوچ اجتماعیت اور ترقی پسند ہے اور قبائلی عمائدین نے اپنے آئندہ نسلوں کی تعلیم اور ان کی ترقی کیلئے مسائل کا حل اس مشاورتی جرگے کے ذریعے تجویز کیا ہے۔ انضمام کے ثمرات ایسے مشاورتی جرگوں کے انعقاد کی صورت میں آنا شروع ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم عمران اور وزیراعلی محمود خان قبائلی علاقوں کی خوشحالی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔اہل علاقہ کی دیرینہ مطالبہ پر معاون خصوصی نے گورنمنٹ کالج باڑہ میں آئندہ تعلیمی سال میں سیکنڈ شفٹ کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔ جب تیراہ کو سب ڈویژن کی حیثیت دینے کیلئے متعلقہ فورمز پر آواز اُٹھانے کا بھی عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پاس اکنامک کوریڈور کیلئے متعلقہ حکام سے بات کرکے باڑہ کے عوام کو ان کا حق دلائینگے۔ قبائلی اضلاع میں تین سو لیکچررز کی اعلی تعلیمی اداروں میں تقرری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ باڑہ مستک روڈ کیلئے دو ارب روپے مختص ہے جس پر امسال ستمبر میں کام شروع ہوگا۔ کامران بنگش نے مزید کہا کہ پچیسویں آئینی ترمیم نے قبائلی عوام کی تقدیر بدل دی ہے۔ اب قبائلی عوام کو دیگر شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ قبائلی اضلاع میں روایات کے مطابق مسائل کے حل کیلئے الٹرنیٹیو ڈسپیوٹ ریزولوشن کا بل پاس کیا گیا ہے جس کے تحت قبائلی روایات کے ذریعے مسائل حل کئے جائینگے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ باڑہ پریس کلب کی تزئین و آرائش کیلئے مختص فنڈز کو بحال کیا جائے گا۔ وزیراعلی محمود خان نے ہر ضلع کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دیا ہے جس کے تحت ضلع کے مسائل اور ان کے حل کیلئے ضلع کی ضروریات پر مشتمل سفارشات مرتب کی جائینگی۔ مشاورتی جرگہ کا اہتمام وزیراعلی محمود خان کے قبائلی اضلاع میں عوام کے درمیان ان کے نمائندوں کی حاضری کیلئے لئے گئے اقدام کا حصہ ہے۔ مشاورتی جرگہ کا مقصد عوام کو حکومتی اقدامات، ان کے مسائل کی شنوائی اور مختص فنڈز کو ان کی ترجیحات کے مطابق خرچ کرناہے۔قبل ازیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اور حکومتی نمائندگان اور اہل علاقہ کو ضلع خیبر میں بالعموم اور تحصیل باڑہ میں بالخصوص موجودہ تعلیمی، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات سمیت دی۔دس سالہ مرجر پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں تین سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی بریف کیا گیا۔