پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس ، قومی کرکٹ ٹیم کی گزشتہ 16 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا

لاہور۔12جنوری (اے پی پی):سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر سلیم یوسف کی سربراہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس پی سی بی ہیڈ کوارٹرز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوا۔ سابق فاسٹ باوئولرز وسیم اکرم اور عمر گل نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی جبکہ عروج ممتاز نے قذافی اسٹیڈیم پہنچ کر اجلاس میں شرکت کی۔ چیف ایگزیکٹو وسیم خان اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان نے بطور غیرفعال رکن اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس میں کرکٹ کمیٹی کے معزز ارکان نے قومی کرکٹ ٹیم کی گزشتہ 16 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے 10 ٹیسٹ میچز کھیلے، جہاں 2 میں اسے کامیابی اور 5 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک روزہ انٹرنیشنل فارمیٹ میں پاکستان نے 5 میچز کھیلے، جن میں سے چار میں اسے کامیابی ملی۔ اس دوران پاکستان نے 17 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے، جس میں سے 7 میں اسے کامیابی اور 8 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا-قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اورباﺅلنگ کوچ وقار یونس نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔دونوں کوچز نے اجلاس میں ٹیم کی کارکردگی سے متعلق اپنا فیڈ بیک دیا۔دونوں کی آمد سے قبل چیف سلیکٹر محمد وسیم نے بھی کرکٹ کمیٹی کو اپنی سلیکشن پالیسی سے متعلق بریفنگ دی۔کرکٹ کمیٹی نے جہاں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تو وہیں انہوں نے اس حقیقت کوبھی تسلیم کیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم نے کوویڈ 19 کی وبا کے باعث مشکلات اور کچھ تجربہ کار کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کا سامنا کیا جو کہ مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی پر اثرانداز ہوئے۔پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی نے متفقہ طور پر واضح کیا ہے کہ ٹیم منیجمنٹ کو قومی کرکٹ ٹیم سے متعلق اپنی حکمت عملی اور اہداف سے متعلق مکمل وضاحت دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اجلاس میں ان کا جائز ہ لیا جاسکے۔کرکٹ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ پی سی بی کو ٹیم منیجمنٹ کو اسپورٹ کرنے کی حمایت کی ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے بعد منیجمنٹ کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کے سربراہ سلیم یوسف کا کہنا ہے کہ کرکٹ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی گزشتہ 16 ماہ کی کارکردگی کا مکمل جائزہ لیا، اس دوران کمیٹی نے حقائق اور حالات کو پیش نظر رکھا۔ سلیم یوسف نے کہا کہ اس حقیقت سے کوئی انکاری نہیں کہ ہم سب اپنی ٹیم کو عالمی رینکنگ کی دو سے تین بہترین ٹیموں میں دیکھنا چاہتے ہیں اور ہماری ٹیم کی حالیہ کارکردگی نہ تو ہماری توقعات کے مطابق ہے اور نہ ہی ہمارے پاس موجود ٹیلنٹ کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہرحال ہمیں کئی پہلوﺅں کو بھی زیرغور رکھنا ہوتا ہے اور کمیٹی کا ماننا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی اس کارکردگی میں کوویڈ 19 کی عالمی وبا کا ایک اہم کردار ہے۔، پاکستان کرکٹ ٹیم نے ان غیرمعمولی حالات میں بائیو سیکیور ببل میں رہتے ہوئے کرکٹ کھیلی اور دیگر ممالک کے کوچز اور کھلاڑی بھی اس ببل کے ٹیموں کی کارکردگی پر اثرانداز ہونے کے خدشات کاا ظہار کرچکے ہیں۔سربراہ کرکٹ کمیٹی نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو بہترین کارکردگی مظاہرہ کرنے کے لیے ایک ایسا ماحول درکار ہوتا ہے کہ جہاں وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے اپنی تیاری کرسکیں مگر آخری دو ٹورز پر ایسا ممکن نہیں ہوسکا اور خصوصی طور پر آخری ٹورپر کہ جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے ہمارے کھلاڑیوں کو 2 ہفتوں تک اپنے کمروں تک محدود رہنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بابراعظم اور امام الحق کے علاوہ شاداب خان ٹیسٹ میچز کے لیے دستیاب نہیں تھے، فخرزمان کاٹیم کے ہمراہ سفر نہ کرنے کا فیصلہ بھی روانگی سے کچھ دیر قبل ہوا، ان کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کی وجہ پاکستان کی ایک ایسی ٹیم کے خلاف کہ جو گزشتہ اڑھائی سال سے اپنی سرزمین پر ناقابل شکست ہے مجموعی کارکردگی پراثرات مرتب ہوئے۔سلیم یوسف نے کہا کہ کمیٹی کا ماننا ہے کہ ٹیم کے انتخاب اور فائنل الیون کے لیے کھلاڑیوں کے چناﺅ میں بہتری ہونی چاہیے تھی، مشکل صورتحال سے نمٹنے کےلئے کھلاڑیوں کی تیاری میں سائنس اور ڈیٹا بیس سے مددلینے پر زور دیا گیا ہے۔سربراہ کرکٹ کمیٹی نے کہاکہ جنوبی افریقہ کے خلاف اہم ہوم سیریز اب صرف دو ہفتے دور ہے ، سیریز کے اختتام پر پی سی بی کرکٹ کمیٹی ایک بار پھر قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لے گی تاہم ٹیم منیجمنٹ کو واضح کردیا گیا ہے کہ اب دوسری پوزیشن پر آنے کا کوئی پوائنٹ نہیں۔انٹرنیشنل کرکٹ کے حوالے سےڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان نے قومی کرکٹ ٹیم کی رواں سال کی تمام مصروفیات سے متعلق کرکٹ کمیٹی کو بریفنگ دی۔ ذاکر خان نے کرکٹ کمیٹی کو واضح کیا ہے کہ کوویڈ 19 کی وباکے باوجود سیریز کے کامیاب انعقاد کے لیے بائیو سیکیور ماحول کے لیے تمام اقدامات کو حتمی شکل دی جاچکی ہے۔ کمیٹی کو واضح کردیا گیا ہے کہ حکومتی پابندیوں کی وجہ سے فینز کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے علاوہ سال 2021 میں پاکستان کو جنوبی افریقہ، زمبابوے، انگلینڈ، ویسٹ انڈیزاور افغانستان کے خلاف اوے سیریز کھیلنی ہے جبکہ پاکستان کو نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز بھی اسی سال کھیلنی ہے۔ رواں سال پاکستان کو ایشیاکپ ٹی ٹونٹی اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں بھی شرکت کرنی ہے۔پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے جنوبی افریقہ اور انگلینڈکی خواتین کرکٹ ٹیموں کے ساتھ سیریز منعقد کرنے پر ویمن ونگ کی کاوش کو سراہا ہے۔ کرکٹ کمیٹی نے نیشنل ٹرائنگولر ٹی ٹونٹی ویمنز کرکٹ چیمپئن شپ کی ٹرافی جیتنے پر بسمہ معروف کی ٹیم کو مبارکباد بھی پیش کی۔کرکٹ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے نتائج جو بھی ہوں پی سی بی کو ویمنز کرکٹ سے اپنی توجہ نہیں ہٹانی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ خواتین کرکٹرز کو تمام میسر وسائل میں بہترین سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر کی بھرپور تیاری کرسکے۔جنرل منیجرپی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ جنید ضیا نے اجلاس میں کرکٹ کمیٹی کو نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر اور پی سی بی کے ڈومیسٹک سیزن 21-2020پر ایک مکمل پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے پینل کو آگاہ کیا کہ 30 ستمبر 2020 سے لے کر 5 جنوری 2021 کے تک مجموعی طور پر آٹھ ایونٹس کے دوران کل 185 میچوں میں 255 کھلاڑیوں نے شرکت کی جبکہ اس وقت پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ کراچی میں جاری ہے۔پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے 50 انٹرنیشنل کرکٹر کی نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹرمیں مختلف کوچنگ رولز پر تقرریوں پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ یہ کوچ نہ صرف باصلاحیت کرکٹرز کی شناخت کرنے میں مدد کریں گے بلکہ یہ کوچز موجودہ کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی تکنیک میں بہتری لانے میں بھی کام کریں گے۔پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے اعتراف کیا کہ نیشنل ہائی پرفارمنس کی کاوش اور محنت کی وجہ سے پاکستان کوویڈ 19 کی صورتحال کے باوجود بہترین انتظامات کرکے اپنی ڈومیسٹک کرکٹ کروانے میں بھی کامیاب رہا۔پی سی بی فی الحال جاری سیزن کے دوران اب تک کھلاڑیوں، میچ آفیشلز سمیت تمام شرکاکے کل 3750 کوویڈ 19 ٹیسٹ کرچکا ہے۔کرکٹ کمیٹی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیل کے معیار پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر کو ڈومیسٹک سیزن کے دوران امپائرنگ، پچزاور کھیل سے متعلق دیگر سہولیات میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فرسٹ اور سیکنڈ الیون سمیت ہر سطح پر ایک ہی قسم کے گیند کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے درمیان فرق کو کم سے کم کیا جاسکے۔