27.9 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںآپریشن سندور کو چھپانے کے لیے بھارت کا پاکستان کے خلاف جھوٹا...

آپریشن سندور کو چھپانے کے لیے بھارت کا پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بے نقاب

- Advertisement -

اسلام آباد۔30اگست (اے پی پی):بھارت کی آپریشن سندور کی تذلیل کو چھپانے کے لیے پاکستان کے خلاف جھوٹی دہشت گردی کی داستان بے نقاب ہو گئی۔بھارتی میڈیا نے اپنی خفیہ ایجنسی را کی ہدایت پر بہار میں انتخابات قریب آتے ہی پاکستان مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔28 اگست کو بھارتی میڈیا نے تین پاکستانی شہریوں کے بارے میں ایک من گھڑت کہانی چلائی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ حسنین علی، عادل حسین اور محمد عثمان نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے راستے بھارتی ریاست بہار میں داخل ہوئے تھے۔

بھارتی میڈیا نے نہ صرف انہیں دہشت گرد قرار دیا بلکہ ان کے خلاف ’’ریڈ الرٹ‘‘ بھی جاری کیا۔جعلی کہانی نشر ہونے کے فوراً بعد تینوں پاکستانیوں کے بیانات منظر عام پر آگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دراصل نیپال اور ملائیشیا کے راستے کمبوڈیا جا رہے تھے۔حسنین علی ولد ابرار حسین اور راولپنڈی کا رہائشی ہے جو 10 اگست 2025 کو دبئی کے راستے نیپال گیا، وہ کھٹمنڈو کے یامبو ہوٹل میں 18 دن تک رہا۔ تاہم ناکافی مالی وسائل کی وجہ سے نیپالی امیگریشن حکام نے اسے ملائیشیا جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے آٹھ دن کی تاخیر ہوئی۔

- Advertisement -

بالآخر 28 اگست 2025 کو وہ باٹک ایئرویز کی پرواز OD-183 پر کوالالمپور، ملائیشیا کے لیے روانہ ہوا۔حسنین علی نے کہا کہ میں پاکستانی شہری ہوں اور راولپنڈی کا رہائشی ہوں۔ میں صرف سیاحت کے لیے نیپال میں رکا، پھر کام کے لیے کمبوڈیا جاؤں گا اور بعد میں پاکستان واپس آؤں گا۔اسی طرح محمد عثمان ولد بشارت اور بہاولپور کا رہائشی 8 اگست 2025 کو دبئی کے راستے کھٹمنڈو گیا، بلیک یارڈ ہوٹل میں چھ دن قیام کے بعد 15 اگست کو کوالالمپور، ملائیشیا کے لیے روانہ ہوا، 17 اگست کو تھائی لینڈ کے شہر بنکاک پہنچا اور اس وقت وہ دو دن کے بعد کمبوڈیا گیا ہے۔

محمد عثمان نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا کی طرف سے جھوٹی اور من گھڑت خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ہم دہشت گرد ہیں۔ میں نے کمبوڈیا پہنچنے کے لیے صرف نیپال کو ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا، میں این او سی حاصل کرنے کے لیے سات دن تک نیپال میں رہا۔ محمد عثمان نے ککہا کہ میں اس وقت کمبوڈیا میں ہوں، بہار، انڈیا میں نہیں۔عادل حسین ولد غلام مصطفیٰ اور میرپور خاص کا رہائشی جو 8 اگست 2025 کو فلائٹ FZ344 کے ذریعے کھٹمنڈو گیا۔ بلیک یارڈ ہوٹل میں چھ دن قیام کے بعد وہ 15 اگست کو کوالالمپور کے لیے روانہ ہوا۔

عادل حسین نے کہا کہ میں نیپال سے 27 اگست کو کمبوڈیا پہنچا اور میں صرف سیاحت کے لیے نیپال میں رہا۔شواہد اور شہادتیں واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ بھارتی میڈیا ان افراد کو پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کے تحت جان بوجھ کر دہشت گرد کے طور پر پیش کر رہا ہے۔بھارت بارہا پاکستان پر پہلگام واقعہ جیسے جھوٹے فلیگ آپریشنز کے ذریعے بے بنیاد الزامات لگاتا رہا ہے۔

بہار میں انتخابی کامیابی حاصل کرنے والی مودی حکومت ایک بار پھر پاکستان مخالف کارڈ کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تاہم اس طرح کے سستے ہتھکنڈے مودی اور ان کی حکومت کے لیے مزید بدنامی اور شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں