سان فرانسسکو۔28اگست (اے پی پی):مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑی امریکی کمپنی این ویڈیا نے سہ ماہی مالی نتائج جاری کر دئیے جو توقعات سے بہتر رہے تاہم چین میں کاروبار کی رکاوٹ اور اے آئی چپ سرمایہ کاری کے حوالے سے ممکنہ خدشات کے باعث کمپنی کے حصص میں کمی دیکھی گئی۔اے ایف پی کے مطابق کیلیفورنیا میں قائم کمپنی نے حالیہ سہ ماہی میں 26.4 ارب ڈالر کا منافع اور 46.7 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی ظاہر کی ہے تاہم رپورٹ کے مطابق گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں ڈیٹا سینٹر آمدنی میں 1 فیصد کمی ہوئی جس کی بڑی وجہ چین کی منڈی کے لیے تیار کردہ ایچ ۔20 چپس کی فروخت میں 4 ارب ڈالر کی کمی تھی۔
کمپنی نے رواں سہ ماہی کے لیے 54 ارب ڈالر کی آمدنی کی پیشگوئی کی ہے جس میں H20 چپس کی فروخت شامل نہیں ۔ این ویڈیا کی ہائی اینڈ جی پی یوز اب بھی اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے ڈیٹا سینٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں میں مقبول ہیں تاہم سرمایہ کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بڑی سطح پر اے آئی سرمایہ کاری پائیدار نہیں رہ سکتی۔مارکیٹ تجزیہ کار جیکب بورن کے مطابق ڈیٹا سینٹر کے نتائج بہت بڑے ضرور ہیں لیکن اس میں یہ اشارہ ملا کہ اگر قریبی مدت میں اے آئی ایپلی کیشنز کے منافع کا تعین مشکل رہا تو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا خرچ کم ہوسکتا ہے۔
اینویڈیا کے حصص آفٹر مارکیٹ ٹریڈنگ میں 3 فیصد سے زیادہ گر گئے۔ این ویڈیا نے گزشتہ جولائی میں 4 ٹریلین ڈالر مارکیٹ ویلیو حاصل کرنے والی پہلی کمپنی کا اعزاز حاصل کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز میں تصدیق کی تھی کہ این ویڈیا کو چین میں فروخت ہونے والی مخصوص اے آئی چپس سے حاصل آمدنی کا 15 فیصد حصہ امریکا کو ادا کرنا ہوگا۔