کوئٹہ۔ 26 مارچ (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرنیٹ سروسز کو ریگولیٹ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے انٹرنیٹ جہاں تعلیم و تربیت کے لئے ایک اہم ذریعہ ہے، وہیں بعض ریاست مخالف عناصر سوشل میڈیا کو نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کے لئے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوششوں کا سدباب کرنا ضروری ہے تاکہ انہیں مثبت سمت میں رہنمائی فراہم کی جا سکے وہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور سیلولر آپریٹرز کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، سیکرٹری زراعت نور احمد پرکانی، سیکرٹری لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ عبدالفتاح بھنگر، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے فیصل خان پانیزئی ،ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند اور حکومت بلوچستان کے حکام اور پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی شریک تھے اجلاس میں بلوچستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کی بہتری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا سیکرٹری آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ایاز خان مندوخیل نے شرکا کو بریفنگ دی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے کو گورننس کی بہتری کے لئے استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے
اس سے نہ صرف عوام کو سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں بلکہ حکومتی امور میں شفافیت اور بہتری بھی ممکن ہو سکے گی انہوں نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ سروسز کی بہتری اور ریگولیشن کے لئے ایک جامع پالیسی مرتب کی جائے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد مثبت انداز میں عوام تک پہنچ سکیں اور جدید ٹیکنالوجی بشمول سیٹلائیٹ رئیل ٹائم مانیٹرنگ کو امن و امان، زراعت و لائیو اسٹاک کی بہتری ، قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع و نقصانات کے تخمینہ کے ساتھ ساتھ مصدقہ اعداد و شمار کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے،
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے پی ٹی اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ جامع تجاویز مرتب کرکے آئندہ اجلاس میں تفصیلی سفارشات کے ساتھ پیش ہوں تاکہ بلوچستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کی ترقی کے لئے مؤثر اقدامات کئے جا سکیں۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=576413