اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):بچوں کے حقوق سے متعلق پارلیمانی کاکس کی سربراہ، رکن قومی اسمبلی اور کنوینر ڈاکٹر نگہت شکیل خان کی قیادت میں وفد نے تھرپارکر اور نگرپارکر، سندھ کا دورہ کیا جس کا مقصد پاکستان میں تعلیمی بحران سے نمٹنا ہے ۔ ڈاکٹر نگہت شکیل خان نے کہا کہ ملک میں 2 کروڑ 63 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جس کے پیش نظر فوری اقدامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر سندھ کے دور دراز علاقوں میں جہاں معاشی اور سماجی رکاوٹیں تعلیمی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
اس اہم "صوبائی مشاورت برائے اسکول سے باہر بچے اور قومی تعلیمی ایمرجنسی” کی میزبانی سندھ اسمبلی کے رکن اور پارلیمانی سیکرٹری برائے مقامی حکومت و پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سندھ کے رکن محمد قاسم سومرو کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر نگہت شکیل خان استقبالیہ خطاب میں اجتماعی حل کی ضرورت پر زور دیں گی ، یہ مشاورت بچوں کے حقوق سے متعلق پارلیمانی کاکس کی کنوینر، ڈاکٹر نگہت شکیل، ایم این اے کی قیادت میں منعقد ہونے والے "قومی سمپوزیم برائے اسکول سے باہر بچے” کے تسلسل کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر نگہت شکیل خان نے کہا کہ اس مشاورت کا مقصد سندھ میں جامع، قابلِ رسائی اور پائیدار تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ یکجا ہو کر ایسے اقدامات یقینی بنائیں کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=566716