اسلام آباد۔31مئی (اے پی پی):ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع اور معیشت کو نقصان پہنچتا ہے، تمباکو ٹیکس کھپت کو کم کرنے کے لئے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور موثر ذریعہ ہے، تمباکو ٹیکس میں اضافے سے ٹیکس آمدنی میں اضافہ اور صحت کے اخراجات میں بچت ہو سکتی ہے، اس طرح کی پالیسیاں نہ صرف زندگیاں بچاتی ہیں بلکہ قومی معیشت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار مقررین جمعہ کو یہاں تمباکو نوشی کے خاتمے کے عالمی دن پر نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں منعقد ہونے والے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا سیشن کا انعقاد ہیومن ڈویلپمنٹ فائونڈیشن (ایچ ڈی ایف) نے اپنی دیگرشراکت دار تنظیموں کرومیٹک ٹرسٹ ، سپارک ، عورت فائونڈیشن ، انڈس ہسپتال اینڈہیلتھ نیٹ ورک او ر ایس پی ڈی سی کے تعاون سے کیا تھا جس کا مقصد تمباکو نوشی کے خطرات اور اس کی روک تھام کیلئے ٹیکس کے اضافے پر آگاہی پیدا کرنا تھا ۔ اس سیشن میں صحت پر تمباکو کے مضر اثرات پر روشنی ڈالی گئی ۔
صحت عامہ کے ماہر ڈاکٹر شفیق رحمان نے تمباکو کے استعمال اور اس کے منفی نتائج کو روکنے کیلئے جامع اقدامات کی اشد ضرورت پر زور دیا ۔ بریفنگ میں تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی پر تمباکو کے مضر اثرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے نیکوٹین پائوچ اور ای سیگریٹ جیسی نئی تمباکو مصنوعات کے پھیلائو پر خدشات کا اظہار کیا گیا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی ) کے ڈائریکٹر انچارج سلیمان احمد نے اس طرح کی تمام مصنوعات کو فوری طور پر ریگولیٹ کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں انسداد تمباکو/نیکو ٹین پالیسیوں کے نفاذ کیلئے ایچ ای سی کےعزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ نیکو ٹین کی مصنوعات پر پابندی اور نوجوانوں میں آگاہی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔
بریفنگ میں تمباکو کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی دبائو کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ تمباکو کنٹرول ایکٹویسٹ ملک عمران احمد نے تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کے ممکنہ فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تمباکو کنٹرول کرنے کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ کم لاگت اور سستا ترین موثر آلہ ہے۔ انہوں نے تمباکو کی صنعت کی جانب سے برآمدات کی آڑ میں 10 سگریٹ والی ڈبی کو متعارف کرانے کی کوشش کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ان کی کم قیمت ہونے کی وجہ سے اندرون ملک استعمال میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے اسے نوجوانوں کو نشانہ بنانے کا ایک اور ذریعہ قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس تجویز کو مسترد کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس طرح کے پیک پاکستان میں لانچ نہ ہوں۔بریفنگ میں تمباکو ٹیکس کی پالیسیوں میں مجوزہ تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا اور صحت عامہ و حکومتی آمدن، دونوں پر ان کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ کیا گیا۔
ایچ ڈی ایف کی تمباکو کنٹرول مہم کی فوکل پرسن عر وج راجپوت نے ایک جدید ریسرچ کے حوالے سے کہا کہ تمباکو ٹیکس میں اضافہ سے تین ٹارگٹ حاصل کیے جا سکتے ہیں جن میں تمباکو نوش کی تعداد میں کمی ، ٹیکس آمدنی میں اضافہ اور صحت کے اخراجات میں بچت شامل ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ ایسی موثر پالیسی نا صرف زندگیاں بچاتی ہیں بلکہ قومی معیشت کو بھی بہتر بناتی ہیں۔ بریفنگ میں پالیسی سازوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ اور تمباکو سے پاک پاکستان کے قیام کیلئے سٹریٹجک ٹیکس پالیسی وضع کریں ۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=471406