اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):بچوں کے حقوق کے تحفظ و فروغ کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے کہا ہے کہ زیر التواء ٹوبیکو ہیلتھ لیوی بل پر عمل درآمد پاکستان کو موجودہ مالیاتی چیلنج پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔ 60 ارب روپے کی اضافی آمدنی سے تمباکو کی صنعت سے صحت اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے سمیت ملکی صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر فوری ہیلتھ لیوی عائد کرے تاکہ پاکستانی بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کی وبا سے بچایا جا سکے۔
پیر کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز (سی ٹی ایف کے) کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ تمباکو کی مصنوعات سستی اور باآسانی دستیاب ہونے کی وجہ سے پاکستان میں تمباکو نوشی کی اقتصادی لاگت 615 ارب روپے ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے جبکہ تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والا ریوینیو کل لاگت کا صرف 20 فیصد ہے۔ وفاقی کابینہ نے 2019 میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) لگانے کے بل کی منظوری دی تاکہ اس کے استعمال کو کم کیا جا سکے اور سالانہ 60 ارب روپے کا اضافی ٹیکس بھی ملکی خزانے میں کو حاصل ہو تاہم تمباکو کی صنعت کی لابنگ کے باعث یہ معاملہ تاحال آگے نہیں بڑھ سکا۔
انہوں نے کہا کہ اس تاخیر کے نتیجے میں پاکستان کی صحت کی دیکھ بھال اور اس کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ وائٹل سٹریٹیجیز پاکستان کے کنٹری لیڈ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ پاکستان میں ہر روز 1200 نئے بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں جبکہ ہر سال 1 لاکھ 70ہزار سے زائد لوگ تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد اس وقت تقریبا 3 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس خطرناک اضافے کو روکنے کیلئے فوری طور پر ہیلتھ لیوی کو نافذ کرنا ہوگا وگرنہ صورتحال کنٹرول سے باہر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کو صحت عامہ کی اسکیموں پر بھی لگاسکتی ہے جس سے عوام کو براہ راست فائدہ ہوگا۔ سپارک کے پروگرام منیجر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ سال 2022 میں پاکستانی بچے موسمیاتی تبدیلیوں، وائرل بیماریوں سے بری طرح متاثر ہوئے۔ ہم ان کی صحت کو مزید خطرے میں ڈالنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تاہم تمباکو کی صنعت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ان کا ہدف محض اپنے منافع کو بڑھانا ہے۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کی صحت اور مستقبل کے تحفظ کیلئے ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ہیلتھ لیوی بل فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کرکے اس کی منظوری دے تاکہ اسے پورے ملک میں نافذ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی تاخیر ہمارے نظام صحت اور معیشت کو مزید کمزور کر دے گی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=344444