پشاور۔ 17 جنوری (اے پی پی):سوسائٹی تنظیم بلیو وینز اور تمباکو اور نکوٹین کے استعمال کی روک تھام اور اس حوالے سے قانون سازی کا مطالبہ کرنے والے صوبائی تنظیموں کے اتحاد نے حکومت کی جانب سے ای سگریٹ پر پابندی عائد کی جانے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
نکوٹین اور تمباکو کے مضر اثرات کہ حوالے سے قانون سازی کے لیے سرگرم سماجی کارکن قمر نسیم نے حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس حوالے سے صوبائی قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ اس کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے۔ انہوں نے اس حوالے سے گورنر خیبر پختون خواہ، چیف سیکرٹری, ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری ہوم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ان کے اس فیصلے کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے چائلڈ رائٹس موومنٹ کی صوبائی کوارڈینیٹر ثناء احمد نے 21 سال سے کم عمر افراد کو ویپ سگریٹ کی فراہمی پر پابندی کو انتہائی مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بچوں اور نوجوانوں کو ویپ اور ای سگریٹ کی با اسانی فروخت کو روکنے میں نہایت مددگار ثابت ہوگا۔
صوبائی ڈاکٹر ایسوسییشن کے چیئرمین ڈاکٹر قاضی شہبازنے بھی دفعہ 144 کے تحت ویب کی 21 سال سے افراد کی ممانعت کو خوش ائند قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختون خواہ حکومت اپنے شہریوں اور نوجوانوں کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی نسل نکوٹین کی عادت ہوتی جا رہی ہے اور اس سے کئی طرح کی بیماریاں اور امراض پھیل رہے ہیں۔
لہذا اس حوالے سے صوبائی قانون سازی کر کے دیگر ملکوں کی طرحای سگریٹ کو مکمل غیر قانونی اشیاء کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=430646