23.8 C
Islamabad
ہفتہ, اپریل 5, 2025
ہومعلاقائی خبریںسرگودھا یونیورسٹی میں ”تمباکو اور منشیات کی روک تھام“ کے موضوع پر...

سرگودھا یونیورسٹی میں ”تمباکو اور منشیات کی روک تھام“ کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی سیمینار کا انعقاد

- Advertisement -

سرگودھا۔20اکتوبر (اے پی پی):یونیورسٹی آف سرگودھا میں ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس افیئرز، ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک اور سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن کے باہمی اشتراک سے”تمباکو اور منشیات کی روک تھام“ کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیاجس میں طلبہ کو تمباکو اور منشیات ے مضر اثرات کے ساتھ ساتھ اس کی روک تھام کے لیے اپنائی جانے والی حکمت عملی سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی گئی۔

سیمینار میں پرو وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر غلام یاسین، ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز ڈاکٹر محمود الحسن،انچارج پولیس تحفظ مرکز صفدر اقبال، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف سائیکالوجی ڈاکٹر محسن عطاء،پریذیڈنٹ سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن محمد شفیق ڈوگر، ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال شاکرہ نورین، چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک ڈاکٹر بینش اعجاز،سب ڈویژنل پولیس آفیسر سٹی سرکل اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس عثمان عزیز میر،سٹارویلفیئر آرگنائزیشن سے سمیراسلیم اور ڈائریکٹر ریاض شاد ہم نصابی فورم ڈاکٹر محمد منیر سمیت فیکلٹی ممبران اور طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر غلام یاسین نے کہا کہ نشے سے چھٹکارا پانا ایک صبر آزما، تکلیف دہ اور قوت ارادی پر منحصر عمل ہے۔

- Advertisement -

اس میں نہ صرف نشے کا عادی شخص بلکہ اس سے وابستہ تمام دوسرے لوگوں کو بھی کئی تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دینی اور اخلاقی پاسداری کے باعث پاکستان جیسے ملک میں خطرناک منشیات کا استعمال بہت کم ہے۔ سمیراسلیم نے کہا 2020 ء کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق 35 ملین سے زیادہ لوگ منشیات کی لت میں مبتلا ہیں۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں تمباکو کے استعمال سے ہر سال 8 ملین سے زیادہ افراد کی اموات ہوتی ہیں جن میں سے 1.2 ملین اموات صرف غیر فعال تمباکو نوشی سے ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 80لاکھ سے زائد افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کی لت سے نمٹنے کیلئے آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے منشیات کے استعمال اور نشے کے بارے میں نوجوانوں کی کا ؤنسلنگ پر پروگرام شروع کیے جانے چاہئیں۔

ڈاکٹر محسن عطاء نے کہا کہ تمباکو نوشی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، نشے کے عادی افراد زندگی کے ہر معاملے میں ناکامی کا سامنا کرتے ہیں اور مختلف جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں، معاشرہ میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ نشہ میں مبتلا افراد کی کونسلنگ اور باقاعدہ علاج پر توجہ دی جائے، اسی طرح نوجوان نسل کی کونسلنگ کی جائے۔

عثمان عزیز میر نے کہا کہ نشے کی عادت میں مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ سوشل بیک گراؤنڈ ہے، جب کوئی شخص نشے کا شکار ہوتا ہے تو اس کا آغاز تمباکو نوشی سے کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ دوسری مضر صحت منشیات کا عادی ہو جاتا ہے، تمباکو اور منشیات کے مضر اثرات کے بارے شعور اجاگر کرنے کیلئے تعلیمی اداروں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تھیٹر اور مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کیے جائیں۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=403431

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں