لاہور۔26فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر گذشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واسا کو ری سائیکلنگ پلانٹ کے بغیر سروس سٹیشن بنانے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کردی ۔عدالت نے کہا ہے کہ ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے سی ٹی او کی تجاویز کو مناسب احکامات کیلئے عدالت کے سامنے رکھا جاسکتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کیس میں ہارون فاروق ، اظہر صدیق سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی دائر درخواستوں پر گزشتہ 22فروری کی سماعت کی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔دائر درخواستوں میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تحریری حکم نامے میں عدالت نے لکھا ہے کہ سی ٹی او نے لاہور میں ٹریفک کے نظام کی بہتری کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کی اور تجویز دی گئی کہ ٹریفک کی خلاف ورزی میں ملوث سرکاری ملازم کی تنخواہیں روکی جائیں یہ بھی تجویز دی گئی کہ ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سرکاری سہولیات نہ دی جائیں اور ٹریفک چالان کہ ادائیگی نہ کرنے والوں کی رجسٹریشن کی تجدید نہ کی جائے عدالتی حکم میں کہا گیا ہے جوڈیشل کمیشن کے ممبر یہ تمام تجاویز مناسب حکم کے لیے عدالت کے سامنے رکھیں۔سی ٹی او نے بتایا کہ بہت ہی سمریز منظوری کیلیے حکومت کو بھجوائی جاچکی ہیں، عدالت نے ٹریفک کی بہتری کیلئے سی ٹی او کی تجاویز کو قابل تحسین قرار دیا۔
عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ لوڈر اور چنگ چی رکشے پر پابندی اور انکی پروڈکشن روکنے کے حوالے پنجاب حکومت اور محکمہ ٹرانسپورٹ آئندہ سماعت پر جواب جمع کرائیں۔عدالت حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری وکیل نے بتایا کہ کابینہ نے روڈا سے محکمہ جنگلات واپس لینے کی منظوری دے دی ہے یہ انتہائی قابل تعریف ہے کہ جنگلات کی اراضی روڈا کو نہیں دی جانی چاہیے۔ عدالت نے کارروائی 28 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے مختلف سرکاری محکموں سے عملدرآمد رپورٹس بھی طلب کرلی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=566378