فیصل آباد۔ 03 نومبر (اے پی پی):پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کےبے مثال فنکاروں میں ایک نام شباب کیرانوی کا بھی ہے جن کی 41 ویں برسی 5نومبر بروزاتوار منائی جائے گی۔شباب کیرانوی 1925 میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کیرانہ میں پیدا ہوئے جن کا اصل نام حافظ نذیر احمد تھا۔
وہ بنیادی طور پر حافظ قرآن تھے۔انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1955میں بطور پروڈیوسر فلم جلن سے کیا جبکہ بطور ہدایتکا ر ان کی پہلی فلم ثریا تھی۔شاب کیرانوی بنیادی طور پر صحافی تھے جنہوں نے صحافت کا آغاز فلمی جریدے ڈائریکٹر سے کیا۔1955میں بطور فلمساز کی حیثیت سے ان کی پہلی فلم جلن تھی جبکہ ’’ثریا‘‘ وہ فلم تھی جس کی سب سے پہلے انہوں نے ہدایات دیں۔
پھر ان کی فلم مہتاب ریلیز ہوئی جو سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ اس
کامیابی کے بعد انہوں نے اپنا فلم اسٹوڈیو بنا لیا۔ اپنے پروڈکشن ہاؤس کے بینر تلے انہوں نے جو پہلی فلم بنائی اس کا نام ’’انسانیت‘‘تھا جو بے حد کامیاب رہی۔ اس میں طارق عزیز اور علی اعجاز نے اپنے فلم کیرئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے سنگدل، انسان اور آدمی، انصاف اور قانون، دامن اور چنگاری، میرا نام ہے محبت، سہیلی، نوکر، شمع، آئینہ اور صورت اور شمع محبت جیسی کامیاب فلمیں دیں۔ شباب کیرانوی کو سماجی موضوعات پر فلمیں بنانے میں ملکہ حاصل تھا۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان کی فلموں کی موسیقی بہت معیاری ہوتی تھی۔
انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران بے شمار شہرہ آفاق فلمیں بنائیں۔ تین سال بعد سپر ہٹ موویز کے بینر تلے انہوں نے ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ فلم بنائی جو قدرے کامیاب ہوئی۔1960میں اسی ادارے کے تحت انہوں نے فلم ’’گلبدن‘‘ بنائی اور اس کی ہدایات بھی اے حمید ہی نے دیں۔ انہوں نے پہلی باراپنے ہی ادارے سپر ہٹ موویز کی فلم ثریا کی ڈائریکشن دی جو ایک عمدہ ومعیاری اور کامیاب شاہکار ثابت ہونے سمیت شباب کیرانوی کے ہدایتکار انہ کیریئر کیلئے سنگ میل ثابت ہوئی۔شباب کیرانوی 5نومبر1982کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=407782