لاہور۔26اگست (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے سارک کی بحالی کے لیے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ مفاہمت کو بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے رکن ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔
منگل کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ امر بہت خوش آئند ہے کہ بنگلہ دیش میں ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک نے سارک فورم کو متحرک کرنے کے لیے پیشرفت پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطے کے لیے نیک شگون ہے کہ دونوں ممالک کے رہنمائوں نے سارک کے ذریعے تجارت کو فروغ دینے اور علاقائی تعاون کو بحال کرنے کے لیے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
اس پیش رفت سے نہ صرف رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی بلکہ سارک چارٹر کے مطابق وسیع تر علاقائی تجارت اور اقتصادی انضمام کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش خطے کے دو اہم ممالک ہیں جن میں تجارت کی بے پناہ صلاحیت ہے اور ان کے مابین مفاہمت سے دیگر رکن ممالک کو مثبت پیغام جائے گا۔
افتخار علی ملک نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی ہے مگر ان کی علاقائی تجارت آسیان اور یورپی یونین جیسے دیگر بلاکس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سارک کی بحالی سے خطے میں مشترکہ خوشحالی، غربت کے خاتمے اور صنعتی ترقی میں بہت مدد ملے گی۔
افتخار علی ملک نے کہا کہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے امن، ہم آہنگی اور سیاسی استحکام ضروری ہے۔ آنے والی نسلوں کے لیے دیرپا فوائد کو یقینی بنانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔