اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):پاکستان فلم انڈسٹری کے ماضی کے معروف موسیقار رشید عطرے کی پیر کو 56 ویں برسی منائی گئی۔ رشید عطرے پاکستان کے نامور فلمی موسیقار تھے۔ انہیں فلم سات لاکھ ، نیند اور شہید پر بہترین موسیقار کا نگار ایوارڈ ملا۔رشید عطرے 15 فروری، 1919ء کو امرتسر، صوبہ پنجاب میں ربابی خاندان کے بلند پایہ ہارمونیم نوز خوشی محمد امرتسری کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام عبد الرشید عطرے تھا۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدا اپنے والد ہی سے حاصل کی اور پھر اپنے عہد عظیم گائیک استاد فیاض علی خان کے شاگرد ہو گئے۔
موسیقی کے شوق میں جلد ہی انہوں نے کلکتہ کا رخ کیا جہاں اس وقت کے مشہور بنگالی موسیقار آر سی (رائے چند) بورال کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آیا، انہوں نے اپنے عہد کے عظیم ترین میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ بحیثیت اسٹنٹ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔1942ء میں رشید عطرے کی بطور موسیقار پہلی مرتبہ فلم’’مامتا ‘‘تھی، اس وقت ان کی عمر صرف 23 برس تھی۔ 1947ء تک انہوں نے 8 فلموں کی موسیقی دی جن میں 4 فلموں کے وہ تنہا یعنی سولو موسیقار تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور آ گئے جہاں انہوں نے فلم بیلی کی موسیقی ترتیب دی، یہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی۔ فلم بیلی کی ناکامی کے بعد رشید عطرے راولپنڈی چلے گئے جہاں انہوں نےریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کرلی۔
آزادیٔ کشمیر کے حوالے سے گایا جانے والا مشہور نغمہ مرے وطن تری جنت میں آئیں گے اک دن ان کے اسی زمانے کی یادگار ہے۔1953ء میں ہدایت کار و اداکار نذیر کے اصرار پرانہوں نے فلم شہری بابو کی موسیقی ترتیب دی۔ اس فلم کے گیتوں نے پورے پاکستان میں دھوم مچا دی۔ انہوں نے اپنے پاکستانی کیریئر میں مجموعی طور پر 55 فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں 48 فلمیں اردو میں اور 7 فلمیں پنجابی زبان میں بنائی گئی تھیں۔
رشید عطرے نے محض 48 برس کی عمر پائی لیکن ان کا نام آج بھی زندہ ہے اور لاگ آج بھی ان کی موسیقی پر سر دھندتے ہیں ۔ اپنے فنی کیرئیر کے دوران 48 اُردو اور 7 پنجابی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے والے رشید عطرے 18 دسمبر 1967 کو اِس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=421013