سیالکوٹ۔5اپریل (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ نے ہدایت کی ہے کہ کاشتکار موسمی پیشن گوئی پر نظر رکھیں اور بارشوں کی صورت میں فصل میں موجود زائد پانی کو کسی خالی کھیت میں منتقل کر دیں۔
ہفتہ کو جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ کاشتکار گندم کی فصل کو آخری پانی موسمی پیشن گوئی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے لگائیں۔اس کے علاوہ درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کے باعث کاشتکارمقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے ہلکی آبپاشی کریں۔انہوں نے کہا کہ زرد کنگی کا حملہ پتوں پر ہوتا ہے اور انتہائی حملے کی صورت میں سٹے بھی متاثر ہوتے ہیں۔پودے کے پتوں پر زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے متوازی قطاروں میں پائوڈر کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔بھوری کنگی کا حملہ عام طور پر پودے کے نچلے پتوں سے شروع ہوتا ہے جس کی وجہ سے پتے کے اوپر بھورے رنگ کا زنگ نما پائوڈر دکھائی دیتا ہے جبکہ سیاہ کنگی کے حملہ میں پتوں اور تنوں پر بیضوی دھبے نمودار ہوتے ہیں جو کہ شروع میں بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔
کنگی کا حملہ سب سے پہلے کھیت سے کچھ حصے ٹکڑیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور پھر وہاں سے پورے کھیت میں بیماری پھیل جاتی ہے۔کنگی کے ظاہر ہوتے ہی صرف متاثرہ حصے پر محکمہ زراعت کے مقامی عملے کے مشورہ سے مناسب پھپھوندی کش زہر لگائیں تاکہ بیماری پھیل نہ سکے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ اس موسم میں گندم کی فصل پر سست تیلے کا حملہ بھی ہو سکتا ہے اس لئے اس کے مربوط انسداد کیلئے کاشتکار اپنی فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ سست تیلے کا حملہ گندم کی فصل پر ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتا ہے لہذا جیسے ہی اس کا حملہ نظر آئے متاثرہ کھیت کے حصوں میں پودوں کو رسی سے ہلا کر تیلے کو نیچے گرا لیں۔کھالوں اور کھیتوں کے اردگرد اگی ہوئی جڑی بوٹیاں بھی تیلے کی افزائش میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔جڑی بوٹیوں کی تلفی آلات کا استعمال کرکے یقینی بنائیں۔ان کی تلفی کے لئے کیمیائی زہر گلائیفوسیٹ بھی محکمہ زراعت کے مقامی عملے کی سفارش کردہ مقدار میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔تیلے کا حملہ ہونے کی صورت میں گندم کی فصل کو سادہ پانی سے پاور سپرئیرکے ساتھ پریشر سے وقفہ وقفہ سے سپرے کریں۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=578748