راول جھیل میں پانی کی آمد اور اخراج کے مقامات پر پانی کے معیار کے ٹیسٹ کیے جائیں، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اور واسا کو ہدایت کی ہے کہ راول جھیل میں پانی کی آمد اور اخراج کے مختلف مقامات پر جامع پانی کے معیار کے ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ آلودگی کے ذرائع، مقامات اور اس کی شدت کا درست تعین کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں …

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اور واسا کو ہدایت کی ہے کہ راول جھیل میں پانی کی آمد اور اخراج کے مختلف مقامات پر جامع پانی کے معیار کے ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ آلودگی کے ذرائع، مقامات اور اس کی شدت کا درست تعین کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راول جھیل کے پانی کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ موریانی، سیکرٹری وزارتِ آبی وسائل سید علی مرتضیٰ، ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے)، ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے )، منیجنگ ڈائریکٹر واسا اور متعلقہ وفاقی و صوبائی وزارتوں اور محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کو راول جھیل میں شامل ہونے والے تین بڑے آبی نالوں کورنگ، لیک ویو اور جناح کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان میں سے بعض نالے قریبی رہائشی علاقوں سے خارج ہونے والے سیوریج کے باعث آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،اس آلودگی کے خاتمے کے لیے سملی روڈ، بری امام اور شاہدرہ کے مقامات پر تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ پینے کے لئے صاف اور محفوظ پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کو پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نظام پر براہِ راست دائرہ اختیار حاصل نہیں تاہم وزارت اس معاملے میں متعلقہ اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شواہد پر مبنی اقدامات ہی مؤثر اور پائیدار حل کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر مصدق ملک نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا یہ وہ پانی ہے جو ہم اپنے بچوں کو پلانا چاہتے ہیں؟۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین بہتر اور مؤثر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہےتاکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور عوام کو جلد از جلد صاف پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔